چین میں مسجدکےسامنےنیلا رنگ پھینکےجانے پرحکومت نے معافی مانگ لی

ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہروں کے دوران ایک مسجد کے سامنے آبی توپ سے نیلا رنگ پھینکے جانے پر ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو نے معذرت کرلی۔

ہانگ کانگ میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے واٹر کینن کے ذریعے نیلا رنگ پھینکا جارہا تھا۔ اس دوران واٹر کینن کی زد میں مسجد بھی آ گئی جس کے باعث مسجد کے دروازے کے علاوہ، دیواریں اور سیڑھیاں نیلی ہوگئیں۔ واقعے کے بعد ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام نے مسجد کا دورہ کیا اور اور امام مسجد سے ملاقات کے دوران واقعے پر معذرت کی۔ اس موقع پر چیف امام محمد ارشد نے معذرت قبول کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسلمان برادری ہانگ کانگ میں امن سے ساتھ رہے گی۔ ہانگ کانگ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ مسجد کی سیٹرھیوں اوردروازے کےسامنے نیلا رنگ حادثاتی طورپراسپرے ہوا،ہم مذہبی آزادی کااحترام کرتےہیں اورہانگ کانگ میں تمام عبادت گاہوں کی حفاظت کیلئےپرعزم ہیں۔

واضح رہے کہ چین کے نیم خود مختارعلاقے ہانگ کانگ میں 20 ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جس میں پولیس سے جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ ڈھائی ہزار سےزائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مظاہرین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان قوانین کو ختم کرے جن سے ان کی جمہوری آزادیاں اور خودمختاری متاثر اور چینی کمیونسٹ نظام کی گرفت مضبوط ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ 1997 میں برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ چین کو واپس کیے جانے کے بعد سے وہاں کے لوگوں کو چین کے مقابلے میں ایک ملک دو نظام کی پالیسی کے تحت بہت سی آزادیاں حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں