پلوامہ حملے کے تناظر میں امریکی قومی سلامتی مشیر کا شاہ محمود سے رابطہ

امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پلوامہ واقعے کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو واپس بھجوایا، بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا جواب حفاظتِ خود اختیاری کے تحت دفاع میں تھا۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت کے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے بھی آگاہ کیا جبکہ امریکی مشیر جان بولٹن نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مؤثر کردار کی تعریف کی، خطے میں امن و امان کیلئے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل میں مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے حالیہ پاک بھارت بحران کے دوران کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے زور دیا ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بولٹن کو بتایا کہ بھارت کی طرف سے 26 فروری کو کی جانے والی دراندازی نہ صرف پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی تھی بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی تھی، اس جارحیت کے خلاف پاکستان کا جواب حق حفاظت خود اختیاری کے تحت اپنے دفاع میں تھا، پاکستان خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، اس لیے وزیراعظم عمران خان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت انڈین پائلٹ کو بھارت واپس بھجوایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود مشاورت مکمل کرنے کے بعد بھارت واپس پہنچ چکے ہیں، ہم 14 مارچ کو کرتارپور راہداری معاہدہ پر گفت و شنید کیلئے ایک سرکاری وفد بھارت بھجوا رہے ہیں۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ میں اور وزیر خارجہ پومپیو شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات میں مصروفیت کے باوجود پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ صورتحال کے سبب دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطہ میں رہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔

انہوں نے خطے میں امن و امان کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارت میں حالیہ الیکشن کے باعث بھارت کی طرف سے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے بھی آگاہ کیا جن سے انہوں نے اتفاق کیا۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کا پس منظر

14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملہ ہوا تھا جس میں 45 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے حملہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شروع کردیا تھا۔

اس کے بعد 26 فروری کو شب 3 بجے سے ساڑھے تین بجے کے قریب تین مقامات سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی جن میں سے دو مقامات سیالکوٹ، بہاولپور پر پاک فضائیہ نے ان کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی تاہم آزاد کشمیر کی طرف سے بھارتی طیارے اندر کی طرف آئے جنہیں پاک فضائیہ کے طیاروں نے روکا جس پر بھارتی طیارے اپنے ‘پے لوڈ’ گراکر واپس بھاگ گئے۔

پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اس اشتعال انگیزی کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جواب دے گا، اب بھارت پاکستان کے سرپرائز کا انتظار کرے۔

بعد ازاں 27 فروری کی صبح پاک فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر میں 6 ٹارگٹ کو انگیج کیا، فضائیہ نے اپنی حدود میں رہ کر ہدف مقرر کیے، پائلٹس نے ٹارگٹ کو لاک کیا لیکن ٹارگٹ پر نہیں بلکہ محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن پاکستان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جو اسے غیر ذمہ دار ثابت کرے۔

جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے تو اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کی طرف آئے لیکن اس بار پاک فضائیہ تیار تھی جس نے دونوں بھارتی طیاروں کو مار گرایا، ایک جہاز آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔

پاکستان حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لیا جس کا نام ونگ کمانڈر ابھی نندن تھا جسے بعد ازاں پروقار طریقے سے واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔
2019-03-11

اپنا تبصرہ بھیجیں