نوازشریف کی سزا ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں منگل تک ریلیف دیا گیا ہے، فردوس عاشق اعوان

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ عدالت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق حکومت سے بیان حلفی طلب کیا تھا لیکن حکومت کیسے بتا سکتی تھی کہ وہ ٹھیک رہیں گے یا نہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عبوری ضمانت کے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کی سزا ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں منگل تک ریلیف دیا گیا ہے اور طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی بنیادوں پر دی گئی ضمانت میں صحت کے تمام تقاضوں کو سامنے رکھا جاتا ہے جبکہ عدالت نے میڈیکل بورڈ کی تجویز پر نواز شریف کو ضمانت دی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ عارضی ریلیف عدالت کا استحقاق ہے اور عدالت نے استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو ریلیف دیا ہے، اب تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد واضح ہو گا کہ عدالت انہیں کتنا ریلیف دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں وفاقی حکومت سے پوچھا جارہا تھا کہ حکومت تحریری طور پر ذمہ داری لے کہ منگل تک نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا، حکومت کیسے بتا سکتی تھی کہ نواز شریف ٹھیک رہیں گے یا نہیں؟ کسی کی زندگی کی ضمانت کوئی کیسے لے سکتا ہے، حکومت نے عدالت سے میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو تمام بیماریاں گرفتاری سے پہلے سے لاحق تھیں تاہم انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولتیں دینا ہماری ذمہ داری ہے اور ہسپتال منتقلی کے بعد ان کی صحت میں بہتری آئی ہے جبکہ وہ اپنی مرضی سے جہاں سے چاہیں علاج کرا سکتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ایک خود مختار ادارہ ہے، نواز شریف نیب کے ملزم ہیں اور نیب عدالتوں نے ہی انہیں سزا دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتی، وزیر اعظم یا حکومت کا اس کیس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد جیل صوبائی معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر منگل تک کی عبوری ضمانت منظور کر لی تھی۔ عدالت نے نواز شریف کو 20، 20 لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں نواز شریف کے ضمانتیوں کی جانب سے مچلکے جمع کرا دیئے گئے جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی رہائی کی روبکار اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاری کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں