مودی کی سیاست انسانوں کے خلاف نفرت پھیلانا ہے ،کوئی جارحیت ہوئی تو جواب میں کیا حشر کریں گے؟عمران خان نے بھارت کو خبردار کردیا

تھرپارکر (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور ان کے والد کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو آج عدالتوں میں نہیں پھرنا پڑتا،لیڈر جدوجہد میں مقصد پر پہنچنے کیلئے یو ٹرن لیتا ہے، سیاست کو عبادت سمجھنے والے لوگ ہمارے ساتھ چلیں، سندھ میں نیا دور آنے والا ہے،مودی کی سیاست انسانوں کے خلاف نفرت پھیلانا ہے ، ہم امن چاہتے ہیں ، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ،ہم آخری گیند تک اپنی آزادی کیلئے لڑیں گے،ہماری فوج اور عوام تیار ہیں،کوئی جارحیت ہوئی تو جوابی کارروائی ہوگی،حکومت ہندو برادری کے ساتھ کھڑی ہے، ہم سب برابر کے شہری ہیں ،کسی قسم کی تفریق نہیں ہونے دیں گے ،تھر سے نکلنے والا کوئلہ تھرپارکر، سندھ اور پورے پاکستان کی تقدید بدل دیگا ،اب کسی بھی پسماندہ علاقے سے نکلنے والی مادنیات، تیل، کوئلہ یا کچھ بھی ملے گا تو ہماری پہلی کوشش مقامی لوگوں کو فائدہ دینا ہوگی،کوئی بھی گروپ مسلح گروپ کو اپنے ملک میں اجازت نہیں دیتا، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرینگے ،پاکستان کی زمین کسی دہشت گردی کی اجازت نہیں دینگے ،صحت کارڈ ایک لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ملے گا، 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا علاج کہیں بھی کروا سکیں گے ،پورے تھرپارکر کے لوگوں کو پہنچائیں گے۔ جمعہ کو تھر میں صحت کارڈ کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چھاچھرو کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور الیکشن کے بعد پاکستان میں یہ میرا پہلا جلسہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں آنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تھرپارکر پورے پاکستان سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور یہ سب سے پیچھے رہ چکا ہے، یہاں کے 75 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور گزشتہ 3 سے 4 سال میں تقریباً 13 سو بچے خوراک اور بھوک کی کمی کی وجہ سے مرگئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ تھرپارکر میں سب سے زیادہ غربت ہے،اس لیے میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔18ویں ترمیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کے بعد تقریباً تمام اختیار صوبے کے پاس چلے گئے ہیں لیکن یہ جو صحت کارڈ ایک لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ملے گا، اس سے وہ 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا علاج کہیں بھی کروا سکیں گے اور یہ پورے تھرپارکر کے لوگوں کو پہنچائیں گے۔انہوں نے تھرپارکر میں 2 موبائل ہسپتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جون، جولائی تک یہ ہسپتال یہاں پہنچ جائیں گے اور اس کے علاوہ 4 ایمبولنسز بھی فراہم کی جائے گی تاکہ لوگوں کو آسانی ہوسکے۔عمران خان نے کہا کہ تھر سے نکلنے والا کوئلہ تھرپارکر، سندھ اور پورے پاکستان کی تقدید بدل دیگا لیکن ہماری کوشش ہے کہ اب کسی بھی پسماندہ علاقے سے نکلنے والی مادنیات، تیل، کوئلہ یا کچھ بھی ملے گا تو ہماری پہلی کوشش مقامی لوگوں کو فائدہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پسماندہ علاقوں سے زیادتی کی گئی اور وہاں سے نکلنے والی گیس سے وہیں کی عوام کو سب سے کم فائدہ ہوا لیکن ہمارا فیصلہ ہے کہ پسماندہ اور کمزور علاقوں کو اٹھانا ہے اور غریب طبقے کو اوپر لانا ہے۔پانی کے مسئلے پر اپنے خطابکے دوران وزیر اعظم نے تھرپارکر کے لیے فوری طور پر 100 آر او پلانٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مزید ضرورت پڑی تو وہ بھی فراہم کریں گے جبکہ کچھ چیزیں سندھ حکومت کو کہیں گے کہ وہ اپنا فرض پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت وہاں کی حکومت کی موجودہ پالیسی کی وجہ سے اقلیتوں، مسلمانوں، سکھوں، مسیحیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان پر ظلم ہورہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں دوسرا مقصد آنے کا یہ ہے کہ یہاں تقریباً آدھی آبادی ہندو مذہب کے لوگوں کی ہے،ہماری حکومت مکمل طور پر ہندو مذہب کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم کسی قسم کا ظلم ان پر نہیں ہونے دیں گے۔قائد اعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انسانوں کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ انگریزوں سے آزادی کے لیے مسلمان اور ہندو کو اکٹھا کرنا چاہتے تھے لیکن قائداعظم کو خدشہ ہوا کہ کانگریس کے ہندوستان میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو حقوق نہیں ملیں گے اور آج جو بھارت میں ہورہا ہے وہاں کا مسلمان کہتا ہے کہ جو قائد اعظم کہہ رہے تھے وہ ٹھیک تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کو حقوق نہیں مل رہے،پاکستان اس لیے بنا تھا کیونکہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت تھے اور انہیں حقوق نہیں ملنے تھے، لہٰذا اس پاکستان میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی اقلیتوں کو پورے حقوق دیں، وہ برابر کے شہری ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہیں ہونے دیں۔عمران خان نے کہاکہ نفرت کی سیاست میں انسان کو تقسیم کرکے ووٹ لینا آسان سیاست ہے، نفرت کی سیاست سے کراچی میں تباہی کی گئی، اگر آج وہاں نفرت کی سیاست نہیں ہوتی تو وہ آج دبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا، وہاں ایک آدمی نے اپنے اقتدار کے لیے نفرت پھیلائی اور دوسروں پر تشدد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں سیاست دیکھی،کوئی پشتونوں کے نام پر سیاست کرتا اور ملک کو باٹتا، کسی نے بلوچ کا نام لیا لیکن مقصد اقتدار تھا جبکہ پنجاب میں جب ضرورت پڑی تو جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگا دئیے اور جب سندھ کے حکمرانوں کو جیل میں جانا نظر آتا تو سندھ کارڈ کھیل دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے نریندر مودی کی بھی یہی سیاست ہے کہ انسانوں کو تقسیم کرو نفرتیں پھیلاؤ، جب ایک لیڈر نفرت پیدا کرتا ہے تو کارکنان وہ کرتا ہے جو آج ہم نے بھارت میں دیکھا، یہ انسانیت کے خلاف ہے یہ حیوانوں کا نظام ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی کا پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانا، جنگ کا ماحول پیدا کرنے کا مقصد انتخابات جیتنا ہےجبکہ مسلمان سب انسانوں کو اکٹھا کرتے ہیں نفرتیں نہیں پھیلاتے، ہم وہ نہیں کرتے جو بھارت میں ہورہا ہے کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے بھارتی پائلٹ واپس کردیا کیونکہ ہم امن چاہتے۔پلوامہ واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش پر عمران خان نے کہاکہ کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ خوف کی وجہ سے ہے، جب وزیر اعظم بنا کو نریندر مودی سے کہا کہ برصغیر میں غربت کے خاتمے کی کوشش کریں، ہم امن قائم کریں اور اپنے مسائل حل کریں لیکن ان کا مقصد ہی نفرت پھیلا کر ووٹ لینا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا ہیرو بہادر شاہ ظفر نہیں بلکہ ٹیپو سلطان ہے کیونکہ ہم غلامی میں نہیں آزادی میں رہنا چاہتے ہیں،کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں غلام بنا لے گا تو میں واضح کردوں کہ ہم آخری گیند تک اپنی آزادی کیلئے لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج اور عوام تیار ہے، کوئی کوئی یہ سمجھے کہ انتخابات کے لیے پاکستانیوں کا قتل کریں گے تو ایسی غلط فہمی میں نہ رہیں کیونکہ ایسا کیا تو یہاں سے جوابی کارروائی ہوگی۔نیشنل ایکشن پلان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی گروپ مسلح گروپ کو اپنے ملک میں اجازت نہیں دیتا، تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کسی ملیشیا کو متحرک نہیں رہنے دینا، جب سے ہماری حکومت آئی ہم نے اس پلان پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کام کا صرف مقصد پاکستان کی بہتری ہے، ان گروپوں میں ایسے لوگ بھی ہیںجنہوں نے فلاحی کام کیا ہے، انہیں فکر نہیں کرنی چاہیے لیکن پاکستان کی زمین کسی دہشت گردی کی اجازت نہیں دے گی۔عمران خان نے کہا کہ کئی عسکریت پسند گروپ کے ونگ پہلے ہی ختم ہوچکے تھے لیکن جب تک ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ ہے بطور ذمہ دار ملک کسی عسکریت پسند گروپ کو اپنے ملک میں نہیں چلنے دیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نیا پاکستان بن رہا ہے، ہم نے یہاں سرمایہ کاری کروانی ہے، ہمارا نیا پاکستان وہ ایک پرامن اور مستحکم پاکستان ہے۔سندھ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخابات میں یہاں مہم چلانے کا موقع نہیں ملا، کراچی میں ہم نے مہم چلائی اور وہاں انقلابی تبدیلی آئی لیکن اب ہم اندرون سندھ کے ہرضلع میں جائیں گے، نئے ، پڑھے لکھے ، سیاست کو عبادت سمجھنے والے لوگ ہمارے ساتھ چلیں، سندھ میں نیا دور آنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 برسوں میں سندھ میں 5 ہزار 3سو ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ ترقیاتی بجٹ 1500 ارب تھا یہ رقم کہاں گئی یہاں کے عوام جانتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ کے لیڈر کو پتہ ہی نہیں کہ جدوجہد کیا ہوتی ہے۔پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر زرداری سے اپنا نام بھٹو کرکے لیڈر بن گیا، انہیں پتہ ہی نہیں جدوجہد کیا ہوتی، کاغذ کی پرچی سے لیڈر نہیں بنتے، لیڈر ایک نظریئے پر کھڑا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کردی، انہیں معلوم ہی نہیں کہ یہاں کے لوگوں کو کم انگریزی آتی،جو انگریزی بلاول بھٹو نے بولی وہ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے لوگوں سمجھ نہیں آئی،وہ اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ غلط طرف منہ کرکے اسمبلی میں نماز پڑھ دی۔عمران خان نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو جدوجہد کرتے تو انہیں پتہ ہوتا کہ لیڈر جدوجہد میں مقصد پر پہنچنے کے لیے یو ٹرن لیتا ہے، آپ اور آپ کے والد (آصف زرداری) اگر یوٹرن کا مطلب سمجھتے تو آج اس مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کیونکہ پرویز مشرف نے امریکی دباؤ میں آپ کے والد کو این آر او دیا، جب این آر او ملا تو 6 کروڑ ڈالر ملے، پھر سرمحل کا پیسہ بھی ہضم کرلیا گیا، اگر اس وقت کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو آج عدالت کے چکر کاٹنے نہیں پڑتے۔انہوں نے کہا کہ کہ وہ وقت کرپشن اور منی لانڈرنگ سے یو ٹرن کا تھا، اگر کردیتے تو نیب اور دیگر اداروں کے چکر نہیں لگانے پڑتے، آپ کے والد نے تو آپ کو بھی پھنسا دیا ہے، بلاول بھٹو یوٹرن بہت اچھی چیز ہوتی ہے۔
2019-03-08

اپنا تبصرہ بھیجیں