مودی کی سوالوں سے بچ کر پہلی پریس کانفرنس

نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پانچ سال کے دور اقتدار میں گزشتہ روز پہلی ‘پریس کانفرنس’ کی، تاہم انہوں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

اس پریس کانفرنس کا پچھلے پانچ برس سے ہر صحافی کو کافی انتظار تھا۔ وہ ملک کے وزیر اعظم سے براہ راست سوال پوچھنا چاہتے تھے کیوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی تھی۔ تاہم انہیں آج اس وقت خاصی مایوسی ہوئی جب وزیر اعظم نے ان سے براہ راست پوچھے گئے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ہمارے لیے پارٹی صدر ہی سب کچھ ہوتے ہیں ۔

بی جے پی کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقد اس رسمی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے صرف بیان دینے پر اکتفا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرنے آئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے سے اہل وطن کا بھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ عام انتخابات میں بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہو گی، مجھے یقین ہے کہ مکمل اکثریت والی حکومت پانچ سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد دوبارہ جیت کر اقتدار میں آ رہی ہے اور طویل عرصے کے بعد ایسا ہوگا۔ ملک کے عوام کو 2014 کے بعد 2019 میں پھر سے موقع ملا ہے۔ عوام نے حکومت بنانا طے کرلیا ہے۔ ملک کو آگے لے جانے کے لیے کیا کرنا ہے۔ جلد سے جلد نئی حکومت اپنا کام شروع کر دے گی۔

وزیر اعظم مودی کی اس پریس کانفرنس پر سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصرے ہو رہے ہیں۔ لوگ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہرماہ ریڈیو پر‘من کی بات’ کرنے والے اور بڑے بڑے عوامی جلسوں کو اپنی تقریروں سے مسحور کر دینے والے نریندر مودی نے صحافیوں کے ایک بھی سوال کا جواب کیوں نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں