معاہدہ توڑا تو یہ حکومت ہے کوئی مذاق نہیں، پرویز خٹک

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کی میڈیا سے گفتگوکی اورکہا کہ حکومت نے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے ان کے راستے نہیں روکے، پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کون معاہدے کی پاسداری کررہا ہے یا کون توڑ رہا ہے

مذاکراتی کمیٹی سربراہ پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کوئی غلط کام کرے گا توآئین وقانون اورعدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ رہبر کمیٹی سے معاہدہ کے مطابق 2 روز میں کوئی رابطہ نہیں ہوگا، اگر ضرورت محسوس ہوگی تو مذاکرات کریں گے۔ امید ہے مولانا ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک و قوم کا نقصان ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا تو اسکے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

حکومت نے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے ان کے راستے نہیں روکے، پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کون معاہدے کی پاسداری کررہا ہے یا کون توڑ رہا ہے۔ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے رہبر کمیٹی نے کبھی وزیر اعظم کے استعفے کی بات نہیں کی، وزیراعظم تمام ترصورتحال کا خود جائزہ لے رہے ہیں، جو فیصلہ حکومت کا ہوگا سب کے سامنے آجائے گا۔ اکرم درانی سے رابطے کے بارے میں پرویز خٹک نے کہا کہ اکرم درانی سے کل رابطہ ہوا تھا، معاہدہ توڑا تو یہ حکومت ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔

ایک صحافی نے سوال کرکے پوچھا کہ مولانا نے وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کی بات کی ہے؟ جواب میں پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بلی کو خوابوں میں چھیچھڑے ہی نظرآتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں