مزدور کے حالات نہ بدلے، آج عالمی دن پر بھی محنت مشقت پر مجبور

عالمی یوم مزدور پر قوم چھٹی مناتی ہے لیکن جس طبقے کے افراد کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ تعطیل منائی جاتی ہے وہ آج کے دن بھی مشقت میں جتے دکھائی دیتے ہیں۔

یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس دن پوری قوم چھٹی مناتی ہے لیکن مزدور آج بھی دو وقت کی روٹی کے لئے مشقت میں جتا رہتا ہے۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والا نواز خان روزانہ پشاور مزدوری کے لئے آتا ہے، اس کا شکوہ ہے کہ دس سالوں میں مہنگائی تو کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن دیہاڑی کے نرخ نہ بڑھ سکے۔

عالمی یوم مزدور پر کچھ سیاسی سماجی تنظیمیں ریلیاں نکال کر اور تقاریب کر کے خانہ پری تو کر دیتی ہیں لیکن اس دن سے وابستہ افراد اپنے عالمی دن کی اہمیت سے بھی با خبر نہیں۔ دیہاڑی دار مزدور کے لئے ایک دن کی چھٹی کا مطلب ایک دن کا فاقہ تو ہو سکتا ہے تفریح نہیں۔

معروف شاعر معراج فیض آبادی نے مزدور کی مجبوری کو کیا خوبصورت لفظوں میں پرویا ہے۔

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

اپنا تبصرہ بھیجیں