شوسینا نے بھارت میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

بھارت کی انتہا پسند جماعت شیوسینا نے پورے بھارت میں قومی سطح پر برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیوسینا کے مراٹھی اخبار ’سامنا‘ میں شائع اداریہ میں ہندوستان میں قومی سطح پر برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہے کہ اگر راون کی لنکا میں برقع پر پابندی لگ سکتی ہے تو رام کے ایودھیا میں برقع پر پابندی کیوں نہیں لگ سکتی؟

وہیں دوسری جانب این ڈی اے نے شیوسینا کے مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے کہا کہ برقع پر پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔

اداریے میں لکھا گیا ہے کہ فرانس، آسٹریلیا اور برطانیہ میں برقع پر پہلے سے پابندی لگائی گئی ہے۔ اب ہندوستان کو چاہیے کہ وہ بھی برقع پر پابندی لگائے۔

دوسری جانب ہندو سینا تنظیم کے صدر وشنو گپتا نے انڈین وزارت داخلہ کو اس سلسلے میں خط لکھا ہے جس میں حجاب، برقع اور نقاب پر مکمل پابندی عائد کر دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر مدھیہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے کہا ہے کہ اگر ملک کی سکیورٹی کے لئے برقع پر بابندی ضروری ہے تو اسے لگانا چاہیے۔

شيو سينا نے موقف اختيار کيا ہے کہ برقع کا اسلام يا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہيں۔ جماعت کے مطابق بھارت ميں مسلم عورتين صرف عرب ثقافت کی پيروی کرتے ہوئے اسے پہنتی ہيں۔

بھارتی مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ برقع پر پابندی ان کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کے مساوی ہوگی۔ يہ مطالبہ اس وقت عام انتخابات کے موقع پر کوئی نيا ہندو مسلم تنازع کھڑا کرنے کے مقصد سے کيا جا رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں