سی ایس ایس2019 کے امتحان میں کامیاب ہونے والے ایک ہی خاندان کی پانچ فرد

اسلام آباد: سینٹرل سپیرئیر سروس ( سی ایس ایس ) 2019 کے تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والی ضحیٰ ملک شیر مقابلے کے امتحان میں پاس ہونے والی اپنے خاندان کی پانچویں فرد ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے دو روز قبل سی ایس ایس کے تحریری امتحان کے نتائج کا اعلان کیا تھا.ضحیٰ ملک شیر نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے ثابت کیا ہے کہ لڑکیاں رحمت ہوتی ہیں اور انہوں نے کامیابی کے ذریعے اپنے خاندان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ اس سے قبل ضحیٰ ملک شیر کی 4 بہنیں مقابلے کا امتحان پاس کرچکی ہیں اور اس وقت بیوروکریسی میں اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ ایف پی ایس سی کے مطابق 23 ہزار 4 سو 3 امیدواروں نے درخواست دی تھی جن میں سے 14 ہزار 5 سو 21 امتحان دیا تھا اور صرف 3 سو 72 افراد ہی پاس ہوسکے اور سی ایس ایس میں کامیابی کی شرح 2.56 فیصد ہے۔

راولپنڈی کی رہائشی ضحیٰ ملک شیر واپڈا کے ریٹائرڈ ملازم کی بیٹی ہیں، انہوں نے کہا کہ ’ میں خود کو بہت خوش قسمت محسوس کررہی ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میرے والد نے یہ ثابت کیا ہے کہ بیٹیاں کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہوتی ہیں‘۔ ضحیٰ ملک شیر نے کہا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں ہے اور جب وہ پیدا ہوئیں تو لوگوں نے ان کی پیدائش پر گھروالوں سے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ میرے والد نے کبھی برا محسوس نہیں کیا بلکہ اپنی کمزوری ( 5 پانچ بیٹیاں ہونے ) کو ہمیں بہترین تعلیم و تربیت فراہم کرکے طاقت میں بدلا‘۔ ضحیٰ ملک شیر نے کہا کہ صنف، رنگ، ذات اور نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے، ان چیزوں کو طاقت اور کمزوری کی بنیاد پر زیرِ غور نہیں لانا چاہیے‘۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ اگر والدین اعتماد کا مظاہرہ کریں تو لڑکیاں حیرت میں مبتلا کرسکتی ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے( انٹرویو ) میں کامیابی کے بعد ملک کی خدمت کے لیے وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ( پی اے ایس) میں شمولیت اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ ضحیٰ کی بہن لیلیٰ نے 2008، شیریں نے 2010، سسی اور ماروی نے 2017 میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ خیال رہے کہ ان پانچوں بہنوں نے راولپنڈی کے پریزینٹیشن کانونٹ ہائی اسکول سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں