رواں مالی سال کی پہلی ششماہی ، پاکستان نے بجٹ میں 2 ارب 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی بیرونی امداد حاصل کی،تفصیلات جاری

کراچی(این این آئی)رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی سے دسمبر)میں نمایاں ضروریات کے باوجود پاکستان نے بجٹ میں 2 ارب 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی معمولی بیرونی امداد حاصل کی۔ رپور ٹ کے مطابق مطابق اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے قرضے اور امداد سمیت غیر ملکی امداد پر جاری ہونے والے اعداد و شمار میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رواں سال غیر ملکی آمدنی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 61 فیصد کم ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق متوقع تخمینوں کے خلاف نصف سال کی کل آمدنی تقریبا 21 فیصد رہی، حکومت کی جانب ے رواں مالی سال کے لیے 9 ارب 70 کروڑ ڈالر تک کا اندازہ لگایا تھا،جس میں 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد اور 9 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قرضے شامل تھے۔تاہم ان رقم میں سعودی عرب کی جانب سے (3 ارب ڈالر) اور متحدہ عرب امارات(ایک ارب ڈالر) کے خصوصی بیل آٹ پیکیج کے ذریعے کی گئی معاونت شامل نہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ان دونوں ممالک سے خصوصی اقتصادی بیل آٹ کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے ذریعے یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3.18 فیصد شرح سود پر جمع کروائی گئی تھی۔اگرچہ یہ رقم بجٹ تخمینے کا حصہ نہیں تھی لیکن اس سے کل آمدنی پہلے 6 ماہ میں 6ارب 30 کروڑ ڈالر پر موجود رہی۔اقتصادی امور ڈویژن کے اعداد شمار میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہلے 6 ماہ میں پاکستان نے کمرشل بینکوں سے 50 کروڑ ڈالر قرض لیا، جس میں دبئی اسلامک بینک سے 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، نور بینک سے 2 کروڑ ڈالر اور سوئسی بینک اے جی، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور الائیڈ بینک لمیٹڈ سے 29کروڑ 50لاکھ ڈالر قرض شامل ہے۔اسی طرح ملٹی ٹیرل سے حاصل رسیدوں کی رقم 77 کروڑ ڈالر پر موجود رہی، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے 33کروڑ 90لاکھ ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک سے 27 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور عالمی بینک سے 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بطور بین الاقوامی امداد شامل تھی۔
2019-03-08

اپنا تبصرہ بھیجیں