جسٹس عیسیٰ کی سماعت کیلئے تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا

جسٹس عیسیٰ کی سماعت کیلئے تاریخ تبدیل کرنے کی استدعار کرتے ہوئے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کی 28 ستمبر کو شیڈول سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کردی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد میں مذکورہ تاریخوں کو دھرنا متوقع ہے اور اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 29 اور 30 اکتوبر کو سپریم کورٹ بار کونسل کے انتخابات ہیں جس کے باعث درخواست گزار اور وکلا مصروف ہوں گے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 28 ستمبر کو اسلام آباد میں متوقع دھرنے کے باعث حالات سازگار نہیں ہوں گے کہ سپریم کورٹ تک آیا جاسکے لہٰذا عدالت مستقبل کی کوئی تاریخ مقرر کر دے۔

اس سے قبل پیر کو سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے سماعت کی تاریخ 28 اکتوبر مقرر کی تھی، آئندہ ہفتے سے مقدمے کی سماعت کا فیصلہ کیا گیا تھا جب جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی 10رکنی فل کورٹ بینچ نے بتایا تھا کہ پیر کو سماعت کے لیے دستیاب نہ ہونے والے جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اگلے پیر سے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے موجود ہوں گے۔ اگر یہ معاملہ واپس چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھیجا جاتا تو یہ گزشتہ 5ہفتوں کے درمیان دوسرا موقع ہوتا جب فل کورٹ کے دوبارہ قیام کی درخواست کی گئی ہوتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے پاس لندن میں لیز پر تین جائیدادیں ہیں جو انہوں نے 2011 سے 2015 کے درمیان اپنی بیوی اور بچوں کے نام سے خریدیں لیکن انہوں نے آمدن کے ذرائع نہیں بتائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان فلیٹوں کے واسطہ اور بلاواسطہ طور پر بینیفشری اونر نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔ اپنے اعتراضات کی حمایت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس 427 (دوسری درخواست) پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں ‘تعصب’ ظاہر کیا اور وہ منصفانہ سماعت کی اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔

اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی ریفرنس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اگر وہ قانون کے مطابق ہو لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں پر غیر قانونی طریقے سے خفیہ آلات اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کرکے سروے کیا گیا۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ رواں سال مئی میں شروع ہوا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔ تاہم اس ریفرنس سے متعلق ذرائع ابلاغ میں خبروں کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت عارف علوی کو متعدد خطوط لکھے اور پوچھا کہ کیا یہ خبریں درست ہیں۔

بعدازاں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے جج کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے اور ان سے جواب مانگنے پر ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اس ریفرنس کو خارج کردیا اور کہا کہ کئی وجوہات کی بنا پر کونسل کو صدر مملکت کو خطوط لکھنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں لگا کہ وہ مس کنڈکٹ کا باعث بنے اور اس کی بنیاد پر انہیں (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں