بھارتی الیکشن: ایگزٹ پولز کیا کہتے ہیں ؟

لاہور: بھارت کے پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں اتوار کو پولنگ ختم ہو چکی ہے اور ملک میں تمام ایگزٹ پولز کے مطابق وزیر اعظم مودی کی سربراہی میں ان کی جماعت بی جے پی کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ‘ماضی میں ایگزٹ پولز اکثر غلط ثابت ہوتے رہے ہیں، 543 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 273 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 23 مئی جمعرات کی صبح آٹھ بجے پورے ملک میں ایک ساتھ شروع ہوگی۔ کس حلقے میں کون سی پارٹی اپنے حریفوں سے آگے چل رہی ہے، اس کے رجحانات صبح گیارہ بجے سے آنا شروع ہو جائیں گے۔ مختلف حلقوں سے نتیجے شام تک آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں اتوار کو ملک کی آٹھ ریاستوں کے 59 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ آخری مرحلے میں اتر پردیش کی 13، پنجاب 13، مدھیہ پردیش 8، بہار 8، بنگال 9، جھارکھنڈ 3، ہماچل پردیش 4 اور چندی گڑھ کی ایک نشست کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران تشدد کے کئی واقعات کے بعد پولنگ سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی میں ہوئی۔ یہ انڈیا کی انتخابی تاریخ کے طویل ترین انتخابات ہیں جسے سات مرحلوں میں پورا کیا گیا۔

پہلے مرحلے کی ووٹنگ 11 اپریل کو ہوئی تھی اور نامزدگیاں داخل کرنے کا عمل اس سے 15 دن پہلے شروع ہوا تھا۔ انتخابی مہم کے خاتمے پر مودی نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آرہی ہے۔ ایسا ایک طویل عرصے کے بعد ہو رہا ہے کہ مکمل اکثریت والی کوئی حکومت دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کے اتحاد کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کسی بھی ایسے رہنما کی حمایت کریں گے جس پر سبھی جماعتیں متفق ہوں۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی سے انتخابی مہم کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں جب یہ پوچھا گیا کہ انھیں کیا امید ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ۔ دو تین دن انتظار کیجیے 23 تاریخ کو پتہ چلے گا کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں آج پیر یا کل منگل کو دلی میں میٹنگ کریں گی۔ ادھر وزیراعظم نریندر مودی ہندو ووٹرز کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کیدر ناتھ مندر پہنچ گئے اور ایک غار میں یوگیوں کی طرح کئی گھنٹے خاموش بیٹھے رہے۔ شاہانہ مزاج رکھنے والے مودی جہاں سفارتی آداب بھول جاتے ہیں ویسے ہی مندر کی روایات کو بھی پس پشت ڈال دیا اور کیدرناتھ مندر تک سرخ قالین پر چلتے ہوئے گئے حالانکہ یہ وہ مقام ہے جہاں ہندو احتراماً اپنے جوتے تک اتار دیتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے کیدر ناتھ مندر کے قریب ہندوؤں کے ایک مقدس غار میں روایتی لباس پہنے تپسیا بھی کی اور گیان لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں