آزادی مارچ: عوام کسی کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کے سامنے سرجھکانے کو تیار نہیں، بلاول

اسلام آباد:اب وقت آ گیا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو جانا پڑے گا، چیئرمین پیپلز پارٹی کا آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اس ملک کے عوام کسی کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کے سامنے سرجھکانے کوتیارنہیں۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اس ملک کے عوام کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ سے آزادی چاہتے ہیں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نےدہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جام شہادت نوش کیا،آپ کے ہمارے جمہوری حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
بلاول نے مزید کہا کہ الیکشن میں سلیکشن کرا کر دھاندلی کی جاتی ہے، کٹھ پتلی وزیر اعظم معیشت پر حملہ کرتا آ رہا ہے،کٹھ پتلی حکومتیں عوام کا خیال نہیں رکھتیں،جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو جانا پڑے گا۔
خیال رہے کہ جے یو آئی ف نے 27 اکتوبر کو ملک بھر میں آزادی مارچ شروع کیا تھا اور اس مارچ کو 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچ آیا ۔ حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ مارچ کے شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں پرامن جلسہ کریں گے اور وہاں سے آگے نہیں جائیں گے۔
بلاول بھٹو اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یارولی کو بھی جلسے میں شرکت کیلئے 31 اکتوبر کا وقت دیا گیا تھا تاہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کا مرکزی قافلہ اسلام آباد میں تو داخل ہوگیاتھا، لیکن جلسے کے مقام پر نہیں پہنچ سکا تھا ، جس پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ از خود ہی جلسے سے خطاب کررہے ہیں ۔
یکم نومبر کو پیپلز پارٹی کو رحیم یار خان میں بھی جلسہ کرنا ہے البتہ جے یو آئی ف کی قیادت کی درخواست پر بلاول نے کہا ہے کہ وہ وقت نکال کر دوبارہ آزادی مارچ کے جلسے میں شرکت کرنے کی کوشش کریں گے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کا اہم جلسہ جمعہ کے بعد ہوگا جس میں مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف خطاب کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں