پرویز الٰہی نے ایسا اعلان کر دیا کہ شہباز شریف حیران رہ گئے

لاہور(نیوز ڈیسک) قائمقام گورنر پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف کے نام کی ریکوزیشن پر ایک ہی شخص کی جانب سے سارے دستخط کئے گئے جس کی جانچ پڑتال کی وجہ سے تاخیر ہوئی ،فارورڈ بلاک بنانے کے خلاف ہوں اور یہاں کوئی فاورڈ بلاک نہیں بنے گا، شہباز شریف نے صوبے کے نظام کو برباد کر کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ، عمران خان کو آرام سے 100روز تو دئیے جائیں اور اس کے بعد بیشک تنقید کر لیں ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہ کہ میری نظر میں اپوزیشن کا اتحاد ہونے یا نہ ہونے سے آسانی کوئی اہمیت نہیں بلکہ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمیں بھرپور طریقے سے اپنے کاموں پر توجہ دینی چاہیے ،جو وعدے ہوئے ہیں انہیں پوراکرنا ہے اور ڈلیور کریں گے اور انشا اللہ ملک کے اندر بہتری لے کر آئیں گے ۔ایسے اقدامات ہونے چاہئیں اور انشا اللہ ہوں گے کیونکہ سب کی نیت ٹھیک ہے اور محنت بھی ہو رہی ہے اوراس کے نتائج بھی بہتر ہوں گے ۔ انہوں نے بیورو کریسی کے معاملے پر سوال کے جواب میں کہا کہ میں اس کے اوپر اس لئے بات نہیں کرنا چارہا کیونکہ میرا یہ کام نہیں ہے ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے نام کا نوٹیفکیشن نہ ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ جب ریکوزیشن پر سب کے دستخط ایک ہی شخص کر دے گا تو پھر ہم نے تو جانچ پڑتال کرنی ہے کہ آپ کے شناختی کارڈ پر کئے گئے اور ریکوزیشن پر کئے گئے دستخط نہیں ملتے ، ہم نے انہیں لکھا اور پھر سب نے آ کر دوبارہ دستخط کئے ہیں اور اس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ میں فارورڈ بلاک کے خلاف ہوں اور یہاںکوئی فارورڈ بلاک نہیں بنے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف نے اس صوبے کے نظام کوتباہ کیا ہے اورصوبے کے عوام کی ساتھ زیادتی کی ہے ۔میڈیا جا کر دیکھے سرکاری ہسپتالوں کا کیا حال ہے ،سرکاری سکولوں کا حال دیکھیں جہاں غریبوں کے بچوں نے پڑھنا ہے ، شہباز شریف نے صوبے کا ایسا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا جس کو برباد نہ کیا ہو ۔ اراکین اسمبلی جس میں (ن) لیگ کے اراکین بھی شامل ہیں پوچھتے ہیں ہاسٹل کا کیا کرنا ہے جس پر میں نے انہیں کہا کہ آپ دس سال تک کیوں خاموش بیٹھے رہے ، کیوںشہباز شریف کاگریبان سے نہیں پکڑا کہ ہمارا ہاسٹیل ٹھیک کریں ۔ انہوںنے موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا جواب حکومت اور وزیر لوکل گورنمنٹ ہی دے سکتے ہیں ۔ لیکن اس سے پہلے یہ ہوا ہے کہ مدت پوری کرنی پڑی ۔ ہمارے دور کے بلدیاتی نظام کو جو سال باقی رہ گئے تھے وہ پورے ہوئے لیکن شہباز شریف نے انہیں کام نہیں کرنے دیا اور نظام تباہ کر دیا۔ انہوں نے بیورو کریسی کے حوالے سے سامنے آنے والے واقعات بارے کہا یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں،عمران خان کو آرام سے 100دن دے دیںاس کے بعد بیشک تنقید کر لیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے رابطوں بارے سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی کسی کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ سارے ہسپتال بھی مکمل ہوں گے اور اسمبلی کی عمارت بھی مکمل ہو گی ۔