“الٹے قدم چلنے کی مہارت رکھنے والے “مسٹر الاسٹک

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جس کی ٹانگیں 180 ڈگری تک مڑجاتی ہیں اور وہ آسانی سے الٹے قدم چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا کے 57 سالہ موسس لنھم نامی شخص ’مسٹر الاسٹک‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں جو 180 ڈگری تک ٹانگیں موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنی اس مہارت سے دو مرتبہ الٹے پاؤں سے 20 میٹر تک چلنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکے ہیں۔ انہیں یہ انوکھی صلاحیت 43 سال قبل اس وقت حاصل ہوئی جب وہ 14 برس کے تھے اور ورزش کے دوران جم میں دو بلند دیواروں کے درمیان تنی ہوئی ایک رسی پر چلنے کی کوشش میں 5 میٹر بلندی سے نیچے گر گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد موسس کو اپنے پیروں میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی اور جلد وہ جان گئے کہ بغیر تکلیف کے وہ اپنی ٹانگوں کو 180 ڈگری تک موڑ کر چل سکتے ہیں۔ کسی کے سامنے الٹے پاؤں چلنے کی مہارت دکھاتے ہوئے بے حد مزہ آتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ٹانگوں، گھٹنوں اور کولہوں کے جوڑوں میں کارٹیلیج (کرکری ہڈی) کی دگنی مقدار موجود ہو۔ موسس میں کارٹیلیج اور متعلقہ ٹشوز دگنی تعداد میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پاؤں کو گھٹنے سے 180 ڈگری تک موڑ سکتے ہیں۔ موسس کا کہنا ہے کہ انہیں کسی کے سامنے یہ مہارت دکھاتے ہوئے بے حد مزہ آتا ہے کیونکہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں، ایک مرتبہ ایسا بھی آیا کہ ایک شخص ان کے پاؤں مڑتے دیکھ کر الٹے پاؤں بھاگ گیا۔

شادی کیلئے لڑکی کو منانے کی پولیس کی انوکھی مدد

فلوریڈا(آن لائن)یوں تو لڑکی کو شادی کے لیے منانے میں لڑکے کے دوست یا عزیز مدد کرتے ہیں لیکن اب پولیس بھی ان کاموں میں مدد گار ہے۔امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک علاقے میانمی میں مقامی پولیس نے ایک لڑکا اور لڑکی کی گاڑی کا پیچھا کیا جس میں لڑکی گاڑی چلا رہی تھی۔پولیس اہلکار نے لڑکی کو گاڑی روکنے کا حکم دیا جیسے کوئی مجرم ہوں جس پر لڑکی گھبرا گئی اور فوری طور پر گاڑی روک دی۔پولیس آفیسر نے ہلکی مسکراہٹ دی اور لڑکے سے پوچھا کیا تمہیں لڑکی سے کچھ کہنا ہے‘ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکے نے جیب میں رکھی انگوٹھی نکالی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی دوست کو شادی کی پیشکش کردی۔کچھ دیر تک لڑکی حیران ہو کر سب کچھ دیکھتی رہی اور کچھ ہی دیر بعد ہاں کہتے ہوئے انگوٹھی پہن لی۔اس موقع پر اہلکار نے دونوں کو مبارکباد دی، بعد ازاں لڑکی کو پتہ چلا کہ پولیس اہلکار ان کے ہی دوست کی مدد کر رہے تھے تاکہ وہ ان سے شادی کا پوچھ سکیں۔