علی سیستانی نے وزارت عظمیٰ کے پانچوں امیدوار مسترد کر دئیے

بغداد(انٹرنیشنل ڈیسک)عراق میں سیاسی گروپ سائرون کے رہ نما صباح الساعدی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے مذہبی مرجع علی سیستانی نے عراقی حکومت کی سربراہی کے لیے امیدوار پانچوں شخصیات کے ناموں کو “سرکاری” طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان امیدواروں میں حیدر العبادی سرِفہرست ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق الساعدی نے کہاکہ سیستانی نے نجف میں ایرانی عہدے دار سے ملاقات میں آگاہ کیا کہ حیدر العبادی، نوری المالکی، ہادی العامری، فالح الفیاض اور طارق نجم ان میں سے کسی کی قسمت میں آئندہ عراقی حکومت میں وزیراعظم کا منصب سنبھالنا نہیں ہے۔اس سے قبل سیستانی یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ وزیراعظم کا انتخاب قوت اور عزم کے ساتھ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت کی تشکیل سابقہ حکومتوں سے مختلف ہونی چاہیے۔الساعدی نے واضح کیا کہ سائرون گروپ جس کی سربراہی مقتدی الصدر کے پاس ہے ، وہ دوسری مدت کے لیے حیدر العبادی کی حمایت نہیں کرتا۔یاد رہے کہ سائرون اور الفتح (جس کی قیادت شیعہ ملیشیا کے کمانڈر ہادی العامری کے پاس ہے) دونوں گروپ ماضی میں وزیراعظم حیدر العبادی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑا بلاک تشکیل دینے کے سلسلے میں دو گروپوں کے درمیان رسّہ کشی جاری ہے۔ ان میں ایک ایرانی نواز گروپ ہے جس کی قیادت نوری المالکی اور ہادی العامری کر رہے ہیں جب کہ دوسرا گروپ تعمیرِ نو اور اصلاح کے نام سے ہے جس کی قیادت مقتدی الصدر اور حیدر العبادی کے ہاتھ میں ہے۔

سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ مظاہرین ہلاک ، کرفیو نافذ

بصرہ (انٹرنیشنل ڈیسک)عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں سکیورٹی فورسز نے سیکڑوں احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور کم سے کم بیس زخمی ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے بھی پھینکے اور مظاہرین سے جھڑپوں میں بائیس سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ۔ان میں بعض دستی بم کے دھماکے میں زخمی ہوئے ۔ بصرہ میں تشدد کے ان واقعات کے بعد حکومت نے کرفیو نافذ کردیا ۔بصرہ کے دو مکینوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے روزگار اور بہتر شہری خدمات مہیا کرنے کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ کردی تھی جس سے ایک چھبیس سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ صوبائی حکومت کے دفاتر کے سامنے اس مقتول کی نمازِ جنازہ ادا کی جارہی تھی ۔اس دوران میں بعض مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی جانب پتھراؤ شروع کردیا ۔اس کے جواب میں سکیورٹی اہلکاروں نے پہلے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور پھر فائرنگ شروع کردی جس سے چھ مظاہرین مارے گئے ۔احتجاجی ریلی کے دوران میں بعض مظاہرین نے عراق کی ایران کے ساتھ واقع بین الاقوامی سرحد بند کرنے اور ایران سے وابستہ بدعنوان سرکاری عہدے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی گئی ۔اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نے پہلے ایک سرکاری عمارت کا محاصرہ کیا ہے اور پھر اس کو آگ لگا دی ۔عراق کے جنوبی شہروں میں جولائی سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ان کے علاوہ وسطی صوبوں میں بھی ہزاروں عراقی شہری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی یا ان کے پست معیار پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔انھیں سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے پندرہ سال کے بعد بھی بجلی ، پانی ، روزگار اور زندگی کی دیگر اشیائے ضروریہ دستیاب نہیں ہیں