اسٹرابیریز سے سوئیاں نکلنے کے واقعات دہشتگردی قرار، آسٹریلوی وزیر اعظم نے دشمنوں کو خبر دار کردیا

سڈنی( آن لائن )آسٹریلیا میں اسٹرابیریز میں سے سوئیاں نکلنے کے واقعات کے بعد عوام میں تو خوف و ہراس پھیلا ہی تھا، لیکن اب آسٹریلوی وزیراعظم اسکوٹ موریسن نے اسے ‘دہشت گردی’ کے برابر قرار دے ڈالا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں اب تک آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں میں سپر اسٹورز پر دستیاب اسٹرابیری کے 6 مختلف برانڈز ڈونی بروک بیریز، لوبیری، ڈیلائٹ فل اسٹرابیری ، او ایسس، بیری آبسیشن اور بیری لیشیئس میں چھپی ہوئی سوئیوں کے شواہد ملے ہیں۔ تاہم ان سوئیوں کی وجہ سے اب تک کسی شخص کے زخمی یا متاثر ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں اس معاملے کو بالکل اسی طرح سے سنجیدگی سے لے رہا ہوں، جس طرح بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنانا یا دہشت گردی کی مالی معاونت کرنا ایک سنگین جرم ہے’۔وزیراعظم اسکوٹ موریسن نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ خوراک کو اس طرح سے زہرآلود کرنے والے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 برس قید کی سزا مقرر کی جائے۔دوسری جانب آسٹریلوی ریاست کوئنزلینڈ کی حکومت نے اسٹرابیریز میں مبینہ طور پر سوئیاں چھپانے والے شخص کی اطلاع دینے والے کے لیے 1 لاکھ آسٹریلوی ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔آسٹریلیا کے وفاقی وزیر صحت گریگ ہنٹ نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فوڈ اسٹینڈرز کو یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ اس مسئلے کی شروعات کہاں سے ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سپلائی چین کا مسئلہ ہے تو اسے بروقت ٹھیک کریں کیوں کہ ہمارا مقصد عوام کی حفاظت اور انہیں نقصان پہنچنے سے بچانا ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے دوبڑے فوڈ ڈسٹری بیوٹرز نے اسٹرابیری میں چھپی سوئیوں کے خوف کے پیش نظر آسٹریلوی اسٹرابیری کی خرید و فروخت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے کوئنز لینڈ میں اسٹرابیری پیداواری تنظیم کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ تجارتی دہشت گردی کے اس واحد اقدام نے ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری کو مجبور کردیا ہے۔

ایران میں آئل ٹینکر اور بس میں تصادم ،19 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کے وسطی شہروں کاشان اور نطنز کیدرمیان ایک آئل ٹینکر اور مسافر بس کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم سے کم انیس افراد ہلاک ہوگئے۔ایرانی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ جنوبی تہران میں200 کلو میٹردور اس وقت پیش آیا جب ایک آئل ٹینکر مخالف سمت سے آنے والی بس سے ٹکرا گیا۔حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ایرانی پولیس کا کہنا تھا کہ بس میں 47 مسافر سوار تھے۔ آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد بس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی پولیس چیف محمد حسین حمیدی نے بتایا کہ المناک ٹریفک حادثے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جنہیں تہران سمیت دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے ٹریفک حادثے کو المناک قرار دیتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔خیال رہے کہ ایران کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 21 مارچ 2017ء سے 21 مارچ 2018ء تک ٹریفک حادثات میں 16 ہزار 300 افراد لقمہ اجل بنے جب کہ 3 لاکھ 36 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری مْتحد ہوجائے، سعودی عرب

ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک)سعودی عرب کی کابینہ نے عرب ممالک میں ایرانی رجیم کی کھلم عام مداخلت اور تہران کی قبیح سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی کابینہ کا اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس کے آخر میں جاری کردہ ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ ایرانی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائے۔بیان میں کہا گیا کہ ایران عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے دہشت گرد ملیشیاؤں کی مدد اور پشت پناہی کررہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی دہشت گردی اور اس کی معاندانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے دنیا کو سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونا ہوگا۔ سعودی عرب نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے تمام کوششیں کررہا ہے۔ ایرانی دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سعودی عرب کی مدد کرے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات ڈاکٹر صالح العواد نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں خطے کے مسائل اور عالمی معاملات پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے سعودی عرب کی مساعی سے ایتھوپیا اور اریٹریا کے درمیان امن معاہدے کو سراہا اور اس حوالے سے خادم الحرمین الشریفی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز کی مساعی کا خیر مقدم کیا گیا۔

یمن گذشتہ 10 روز میں سرکاری فوج سے شدید لڑائی میں 1300 حوثی باغی ہلاک

صنعاء (انٹرنیشنل ڈیسک)یمن کے دو صوبوں الحدیدہ اور صعدہ میں گذشتہ دس روز سے سرکاری فوج اور حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیرہ سو حوثی باغی ہلاک ہوگئے ۔ان میں ایک بڑی تعداد عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں ماری گئی ۔یمنی فوج صوبہ صعدہ میں مران کے پہاڑی علاقے کی جانب پیش قدمی کررہی ہے اور وہ حوثی ملیشیا کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد الجمیمہ میں واقع حوثی تحریک کے بانی حسین الحوثی کی قبر کے نزدیک پہنچ گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی فوج کے تیسرے بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر عبدالکریم السدعی نے بتایا کہ ان کے دستے حوثی ملیشیا کے مرکز اور مضبوط گڑھ جرف سلمان کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں ۔ یہ علاقہ حوثیوں اور ان کے لیڈر عبدالملک الحوثی کے لیے اہم خیال کیا جاتا ہے اور وہ اسی علاقے میں مقیم ہے۔یمنی فوج کے مطابق صعدہ کے ضلع حیدان میں واقع جبال مران میں گذشتہ دس روز سے جاری اس شدید لڑائی میں کم سے کم تیرہ سو حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔بریگیڈئیر السدعی نے بتایا کہ مران کے محاذ پر حوثی ملیشیا کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظر گذشتہ چند روز میں نئے قبرستان بنائے گئے ہیں تاکہ ان مہلوکین کی وہاں تدفین کی جاسکے۔اس کے علاوہ اب حوثی ملیشیا کو اپنے مضبوط گڑھ کے ممکنہ سقوط پر بھی تشویش لاحق ہونا شروع ہوگئی ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد اس جنگ میں اہم اور براہ راست کردار ادا کررہا ہے۔واضح رہے کہ جرف سلمان صوبہ صعدہ کے جنوب مغرب میں جبال مران کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک گاؤں ہے۔یہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہیں حوثی تحریک کا بانی حسین الحوثی مقیم رہا تھا۔اس نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کی تھی اور وہ یمن کی مسلح افواج کی کارروائی میں 10 ستمبر 2004ء کو ہلاک ہوگیا تھا۔

ایرانی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئے معاہدے کی ضرورت ہے،امریک

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک )امریکی وزیر برائے توانائی ریک بیری نے ایران کی معاندانہ سرگرمیوں، دہشت گردی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک نئے عالمی معاہدے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ویانا میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایران نے دہشت گردی کی پشت پناہی اور خطے میں مداخلت کی اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ہے۔انہوں نے 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کومعیوب ڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے کیے گئے معاہدے میں کئی عیب اور کم زوریاں تھیں، جس کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا۔ دوسری جانب معاہدے کے باوجود ایران کی بدسلوکی کا سلسلہ جاری ہے۔اْنہوں نے کہا کہ یہاں ویانا سے جولائی میں ایک ایرانی سفارت کار پکڑا گیا جو فرانس میں ایک ریلی میں میں بم دھماکے کے لیے دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے کی دہشت گردی میں ملوث تھا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں امریکی وزارت انصاف نے گرفتار کیے گئے ایران کے لیے جاسوسی کرنے والے دو ایرانیوں کو حراست میں لیا۔ریک بیرک کا کہنا تھا کہ ایران کی روش میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ سے ہم تہران پر پابندیاں بحال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایران نہ صرف اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس نے خطے میں عدم استحکام کی سازشین بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔امریکی وزیر نے تہران کو جوہری ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کیحصول سے روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں، جوہری اسلحہ کی تیاری ، دہشت گردی کی پشت پناہی اور خطے میں مداخلت کی پالیسی کی روک تھام کے لیے پوری دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تہران کے خلاف کام کرنا ہوگا۔

سعودی ولی عہد کامصری صدر کو فون… یمن، شام اور خطے کے مسائل پر تبادلہ خیال

ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک)سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلیفون پربات چیت کی ہے اورسعودی ولی عہد اور مصری صدر کے درمیان یمن، شام اور خطے کے دورے سلگتے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیاہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں خطے کی موجودہ صورت حال، اہم اور حل طلب مسائل اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاوون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔سعودی ولی عہد اور مصری صدر کے درمیان یمن، شام اور خطے کے دورے سلگتے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سائنسدان کی ذہانت نے مصر اور اسرائیل میں جنگ چھیڑ دی تھی, چونکا دینے والے انکشافات

قاہرہ(انٹرنیشنل ڈیسک) 1973 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والی جنگ کا محرک ایک مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ تھے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ بھی نہ ہوتی۔یہ حیران کن انکشاف مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحب زادی ڈاکٹر سعاد محمود سعادہ نے عرب ٹی وی سے انٹرویومیں کیا،انہوں نے بتایا کہ 1973ء میں جب صدر انور سادات صہیونی ریاست کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرچکے تو اچانک انہیں عسکری قیادت کی طرف سے بتایا گیا کہ مصر کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کے لیے مختص ایندھن زاید المیعاد ہوچکا ہے جسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ 1972ء میں مصری صدر انور سادات نے ایک جنونی فیصلے کے تحت سوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات بگاڑ لیے تھے۔ اس لییسوویت یونین کی جانب سے میزائلوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی سپلائی بند ہوگئی تھی۔ جب صدر انور سادات کو بتایا گیا کہ میزائلوں کو چالو کرنے کے لیے ایندھن موجود نہیں تو وہ بہت پریشان ہوئے اور قریب تھا کہ جنگ ٹل جاتی، مگر ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ نے مصری حکومت اور فوج کی مدد کی ناکارہ ہونے والے ایندھن کو دوبارہ کارامد بنایا اور ساتھ ہی خام تیل سے میزایلوں کے لیے ایندھن تیار کیا گیا۔جون 1973ء میں مصری حکومت نے فوج سے اسرائیل پر چڑھائی کے لیے مشورہ کیا۔ ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے کہ آیا میزائلوں کو درکار ایندھن کی کمی کیسے پوری کی جائے؟۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ مسئلہ ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ حل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ صدر کی طرف سے انہیں خصوصی گاڑی بھجوا کرمنگوایا۔ انہوں نے اپنی غیرمعمولی ذہانت کے ذریعے چند منٹ کے اندر اندر مسئلے کا حل بتا دیا۔ اس طرح صدر سادات اور مصری فوج کو درپیش ایک بڑی پریشانی کا حل نکل آیا۔ ماہر آثار قدیمہ اور ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحبزادی ڈاکٹرسعاد محمود سعادہ نے بتایا کہ میرے والد نے مصر کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر میزائلوں کو درپیش ایندھن کی کمی کا آسان حل نکال لیا۔ انہوں نے استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا اس کے علاہ خام تیل سے بھی بھاری مقدار میں ایندھن تیار کیا گیا۔ اس طرح مصر کو درپیش ایندھن کی کمی دور ہوگئی اور مصر نے یوسف سعادہ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی اور اس میں فتح بھی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر سعاد نے بتایا کہ اس کے والد پہلے کیمیائی صنعت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ الٹراساؤنڈ پر بھی کام کرتے۔ انہوں نے مصری حکام کو درپیش ایک اور مسئلے کا بھی حل نکالا۔ مصری محکمہ زراعت کو کھیتوں میں حشرات الارض اور چوہوں کے عذاب کا سامنا تھا جو فصلیں تباہ برباد کردیتے۔ کسانوں اور حکومت کے پاس ان سے نجات کا کوئی جادوئی حل نہ تھا۔ ڈاکٹرمحمود یوسف سعادہ نیاس مسئلے کا بھی حل نکالا۔ انہوں نے الٹراؤ ساؤنڈ لہروں کی مدد سے چوہوں کا خاتمہ کیا۔

پاکستان سے مکھی بھی نہیں آنے دیں گے،بھارتی جنون تمام حدیں پار کر گیا, مزید جانیئے

سری نگر (نیوز ڈیسک) بھارت نے پاکستان کے ساتھ اسمارٹ فینس کا کام شروع کردیا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جدید باڑکا افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کے اپنے ایک دورے کے دوران اس طرح کی ٹیکنالوجی کو استعمال میں دیکھا تھا اور اب اسے بھارت میں بھی آزمایا جارہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے جموں علاقے میں بھارت-پاکستان سرحد پر ایک نئی فینسنگ کے دو آزمائشی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ بھارت کے سرحدی حفاظتی دستے بارڈر سیکیورٹی فورس کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسمارٹ فنسینگ میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ بھارتی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کو نقائص سے پاک بنانا بہت اہم ہے۔ بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ آزمائشی طور پر شروع کئے گئے ان دو منصوبوں سے سرحد کے ساڑھے پانچ کلو میٹر حصوں کا احاطہ ہو گا۔ یہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلیٰ ٹیکنالوجی کا نگرانی کرنے والا سسٹم ہے جو ان کے بقول زمین، پانی اور یہاں تک کہ ہوا اور زیرِ زمین بھی ایک نہ دکھائی دینے والی برقیاتی رکاوٹ پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پوشیدہ باڑ سرحد پار سے بالخصوص انتہائی دشوار علاقوں سے در اندازی اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو گی۔بی ایس ایف عہدیداروں کے مطابق اس نئی باڑ میں نگرانی کے لئے اسٹیٹ آف دی آرٹ سرویلنس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو زمین کے اوپر سے یا سرنگوں کے ذریعے کی جانے والی در اندازی کے بارے میں فوری اطلاع دے گی۔ باڑ میں تھرمل امیجر، انفرا ریڈ اور لیزر پر مبنی چوکس کرنے والے آلات نصب ہوں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل مشرف دور میں بھارت نے ایل او سی پر باڑ لگائی تھی اور کئی جگہوں پر جدید آلات نصب کر رکھے ہیں۔

تنخواہ 14 لاکھ روپے اور کام صرف سونا، ناسا نے اعلان کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایسی ملازمت آ گئی ہے جس میں آپ کا کام صرف سونا ہو گا اور آپ کو 12 لاکھ تنخواہ دی جائے گی۔ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ادارے ناسا کو ایسا شخص چاہیے جو مسلسل 70 گھنٹے سو سکتا ہو اور اس سلسلے میں ناسا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 70 گھنٹے سونے والے شخص کو 12 ہزار ڈالر انعام دیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارہ بستر پر آرام کے دوران وزن کی کمی کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے اور اس دوران آپ کو بستر پر ہی لیٹے رہنا ہو گا آپ کو وہیں کھانا بھی پڑے گا اور ایک پوزیشن میں لیٹے ہوئے نہانا بھی پڑے گا اور اس تمام کا مقصد صرف انسانی جسم کا مطالعہ کرنا ہے۔ ناسا انسانی جسم سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اکثر ایسے تجربات کرتا رہتا ہے، حاصل کردہ معلومات کی بناء پر خلائی مشن کے دوران خلائی مسافروں کو بھی مدد ملے گی جن کو خلائی زمین پر سونے کے لیے بستر نہیں ملتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنی رونلڈ ریپ نے اس ملازمت کے لیے کسی ماہر شخص کو صرف 15 دن کے لیے جو کہ 70 گھنٹے سو سکے، 10ہزار ڈالر تنخواہ دینے کا کہا ہے۔ یہ پاکستانی روپوں میں بارہ لاکھ روپے بنتی ہے۔

دشمنوں کو جدید ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اسرائیلی وزیراعظم

تل ابیب(انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے دشمنوں کو جدید ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ دمشق نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی میزائلوں نے دمشق ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔عرب ٹی وی کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیاکہ انہوں نے کابینہ کی ہفتہ وار میٹنگ کے آغاز میں کہاکہ اسرائیل ہمارے دشمنوں کو جدید ہتھیاروں سے خود کو مسلح کرنے سے روکنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھاکہ ہماری سْرخ لکیریں ہمیشہ سے بہت واضح ہیں اور ان پر عمل کرنے کا ہمارا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔