پاکستان کا دورہ کرنے والے نوجوت سدھو کیخلاف بھارت میں سنگین سازش تیار

نئی دہلی(آن لائن)پاکستان کا دورہ کرکے بھارت میں شدید تنقید کا نشانہ بننے والے کانگریسی رہنما اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف ایک 20 سال پرانا کیس پھر سے کھل گیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے 1998 میں ہونے والے ٹریفک حادثے میں ایک شخص کی ہلاکت سے متعلق کیس میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 27 دسمبر 1998ء کو سدھو اور ان کے دوست روپیندر سنگھ ساندھو کی گاڑی کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔اس مقدمے میں سیشن کورٹ نے سدھو اور ان کے دوست

کو 1999 میں بری کیا، تاہم اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ہائی کورٹ نے بریت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے 2006 میں دونوں کو 3 سال قید کی سزا سنائی، جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔بعدازاں سپریم کورٹ نے رواں برس مئی میں ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے دونوں کو بری کردیا تھا۔تاہم اب ہلاک شہری کے لواحقین کی درخواست پر سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے کہ سدھو وضاحت کریں کہ انھیں سخت سزا کیوں نہ دی جائے؟

ڈیوٹی کے دوران باپ کا اپنی افسر بیٹی کو فخر سے سیلوٹ

بھارت(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک بھارتی خاتون پولیس آفیسر اپنے ہی والد سے سینئر عہدے پر فائز ہوگئیں اور دوران ڈیوٹی جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو باپ نے بیٹی کو فخر سے سیلیوٹ کیا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آر اُوما مہیشور شرما محکمہ پولیس میں گزشتہ 30 سال سے بحیثیت ڈپٹی کمشنر آف پولیس تعینات ہیں اور اگلے سال ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اُوما مہیشور کی بیٹی سندھو شرما اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے 4 سال میں ہی ریاست تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بن گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایک عوامی اجتماع میں جب دونوں کی ڈیوٹی لگی تو پہلی بار ان کا آمنا سامنا ہوا، اس موقع پر لوگوں نے وہ جذباتی لمحہ بھی دیکھا کہ باپ نے اپنے ہی بیٹی کو سیلیوٹ کیا۔ اوما مہیشور کہتے ہیں کہ وہ ڈیوٹی کے دوران باپ بیٹی کی طرح بات نہیں کرتے، مگر گھر پر اچھے باپ بیٹی کی طرح رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘وہ میری سینئر افسر ہے، جب میں اسے دیکھتا ہوں تو اسے سیلوٹ کرتا ہوں، ہم اپنی اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں’۔ دوسری جانب سندھو کا کہنا تھا کہ ‘وہ بہت خوش ہیں اور ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملنا ہمارے لیے بہت اچھا ہے’۔