معاشی مشکلات کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا،مشیر وزیراعظم

واشنگٹن(آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری عشرت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ 15 سو ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں جانا ہے، ملک کے دفاعی اخراجات پر بہت زیادہ رقم خرچ نہیں ہوتی، صرف جی ڈی پی کا 3 فیصد استعمال ہوتا ہے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عشرت حسین نے کہا پاکستان 45 سو ارب کی جو کل رقم جمع کرتا ہے، اس میں سے 15 سو ارب قرض اتارنے میں چلی جاتی ہے ۔ نئی حکومت آنے پر پاکستان کی برآمدات تقریبا ختم ہوگئی تھیں، امید ہے کہ رواں سال کا کرنٹ اکانٹ خسارہ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے قیمتیں بڑھیں تو درآمدات بھی کم ہوں گی، ہمارا فنانسنگ گیپ زیادہ ہے، اس لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا آئی ایم ایف نے پاکستان سے تمام قرضوں کی شفاف تفصیل مانگ لی تا ہم انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں قومی مفاد کو سامنے رکھا جائے گا اور اس کے بعد عالمی بینک اور دیگر اداروں سے بھی مدد مل سکے گی۔عشرت حسین نے بتایا کہ پاکستان میں 35 لاکھ افراد میں سے 12 لاکھ ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں، ہمیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھانا پڑے گا۔ ہمارے پاس ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کا اختیار ہونا چاہیے، اگر 20 لاکھ لوگ بھی ٹیکس ادا کرنے لگیں تو تناسب بہتر ہوجائے گا۔

کریانہ ایسوسی ایشن کامہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت سے مکمل تعاون کا اعلان

لاہور( این این آئی )پنجاب حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد تاجروں نے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سے مکمل تعاون کا اعلان کر دیا ،کمشنر لاہور ڈویژن کے ساتھ اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی اضافے کے ساتھ نئی طے پانے والی قیمتوں کوبھی واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا،دہی کی قیمت 94اور دودھ کی قیمت 80 روپے برقرار رہے گی۔وزیراعلی پنجاب کے مشیر چوہدری اکرم کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔اجلاس میں تاجروں نے مہنگائی کی روک تھام کے لئے حکومت سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔کریانہ ایسوسی ایشن نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت 55روپے برقرار رہے گی ، آٹے کابیس کلو کا تھیلہ بھی حکومت پنجاب کی اعلان کردہ قیمت پر فروخت ہوگا۔جبکہ چاول ،دالوں ، بیسن ،لال مرچ،گرم مصالحہ جات کی قیمتوں کا بھی چارٹ جاری کر دیا جائے گا ۔صدر کریانہ ایسوسی ایشن حافظ محمد عارف نے کہا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سے مکمل تعاون کافیصلہ کیاہے ، ڈپٹی کمشنر کے ساتھ جن اشیا ء کی قیمتیں بڑھانے پر بھی اتفاق ہوگیاتھا اس اضافہ کو بھی روک دیاگیاہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے 229 گاڑیوں میں موجود 15 ہزار 833 لیٹر ناقص دودھ موقع پر ضائع کر دیا

لاہور(این این آئی)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ناقص دودھ کی سپلائی کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے 229 گاڑیوں میں موجود 15 ہزار 833 لیٹر ناقص دودھ موقع پر ضائع کر دیا ،لاہور میں 37 گاڑیوں میں موجود 5 ہزار 751 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کیا گیا ۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پر ڈیری سیفٹی ٹیموں نے شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر)محمد عثمان نے بتایا کی صوبہ بھر میں 1929 گاڑیوں میں موجود 3 لاکھ 13 ہزار لیٹر دودھ کے موقع پر ٹیسٹ کئے گئے۔دودھ میں مقدار اور گاڑھا پن بڑھانے والے مضر صحت کیمیکلز، پاؤڈر، یوریا اور پانی کی ملاوٹ پائی گئی۔کئی گاڑیوں میں ملاوٹ اور کیمیکل ذدہ ناقص دودھ برف ڈال کر محفوظ کر کے لایا جا رہا تھا۔ ہفتہ وار ناکہ بندی سے ناقص دودھ کی سپلائی میں کمی خوش آئند اور بہتری کی طرف اشارہ ہے۔ کیپٹن (ر)محمد عثمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ناقص اور غیر معیاری دودھ سے بچانے کیلئے وسیع پیمانے پر کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

ضمنی انتخابات: سمندر پار پاکستانیوں کا ایک ووٹ 15 ہزار کا پڑا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں نے پہلی مرتبہ اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور کاسٹ ہونے والا ہر ووٹ قومی خزانے کو 15 ہزار روپے کا پڑا۔  رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ نظام کے تحت ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کے عمل میں 9 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ووٹنگ سوفٹ ویئر پر سب سے زیادہ خرچہ ہوا جبکہ دیگر عمل میں اخراجات برائے نام تھے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے کہا کہ 7 ہزار 3 سو64 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف 6 ہزار 2 سو33 نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور ایک ووٹ کا خرچ 15 ہزار روپے تھا۔ یہ بھی پڑھیں:ضمنی انتخابات: مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 4،4 نشستوں پر کامیاب خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی جازت دی تھی اور واضح کیا تھا کہ کسی تنازع کی صورت میں ان ووٹوں کو گنتی میں شامل نہیں کیاجائے گا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 35 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے حتمی رزلٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان چوہدری ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کاسٹ ہونے والے تمام ووٹوں کی تفصیلات متعلقہ ریٹرننگ افسران کوبھیج دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ریٹرننگ افسران ان نتائج کو بھی اپنے حتمی نتائج میں شامل کریں گے’۔ گزشتہ ماہ آن لائن رجسٹریشن کے عمل کے دوران 6 لاکھ 32 ہزار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں سے صرف 7 ہزار 4 سو19 نے آئی ووٹنگ کے لیے رجسٹر کرایا تھا اور ان میں سے صرف 6 ہزار 322 (83 اعشاریہ 56 فیصد) نے اپنا حق استعمال کیا۔ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے 3 حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹوں کا تناسب 100 فیصد تھا جہاں ان کی تعداد بہت کم تھی۔ پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی-222 میں 23، پی پی-164 میں 20 اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی-35 میں میں صرف ایک ووٹ کاسٹ ہوا۔ اعداد وشمار کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے-243 میں سب سے زیادہ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ پڑے جہاں رجسٹرڈ ایک ہزار 3سو 53 میں سے ایک ہزار ایک سو12 افراد نے آئی ووٹنگ کی سہولت استعمال کی۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے-131 لاہور میں مجموعی طور پر رجسٹرز ایک ہزار ایک سو26 ووٹرز میں سے 991 (88فیصد) نے ووٹ کاسٹ کیا، این اے-69 میں 6 سو98 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 5 سو 61 (80فیصد)،این اے-53 اسلام آباد میں 5سو67 ووٹرز رجسٹرڈ تھے جن میں سے 461 (81 فیصد)، این اے-124 لاہور میں رجسٹرڈ 510 میں سے 400 (78 فیصد) ووٹرز نے اپنا حق استعمال کیا۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے-35 بنوں میں 321 سمندر پار پاکستانی ووٹ رجسٹرڈ تھے جن میں سے 265 (83 فیصد) نے ووٹ ڈالا، این اے-63 راولپنڈی میں رجسٹرڈ 321 میں سے 265 (83 فیصد)، این اے-65 چکوال میں رجسٹرڈ 312 میں سے 257 (82 فیصد) اور این اے-56 اٹک میں 230 ووٹر رجسٹر تھے جن میں سے 202 (88فیصد) سمندر پارپاکستانیوں نے ووٹ کاسٹ کیا۔ سمندر پارپاکستانی ووٹرز کے اعداد وشمار کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں پی پی-27 میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ 253 میں سے 227 نے اپنے حق کا استعمال کیا اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے-44 میں 185 میں سے 148 (81 فیصد) بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا ووٹ ووٹ ڈالا۔

کارپٹ کی تین روز ہ عالمی نمائش آج سے لاہور میں شروع ہو گی

لاہور(این این آئی) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تین روزہ عالمی نمائش آج (بدھ) سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں شروع ہو گی ، نمائش کا افتتاح ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل میاں ریاض احمد کریں گے ۔ترجمان کے مطابق تین روزہ نمائش میں امریکہ ، برطانیہ،جرمنی ، آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک سے غیر ملکی خریداروں اور مندوبین شریک ہوں گے جن کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔18اکتوبر کو ایوارڈ تقریب منعقد ہو گی جس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبد الرزاق داؤد ہوں گے ۔ ترجمان کے مطابق نمائش میں مقامی مینو فیکچررز کی جانب سے کارپٹ مصنوعات کے 70سٹالز لگائے جائیں گے ۔ پاکستانی شہریوں کی کثیر تعدا دبھی نمائش میں شرکت کرے گی ۔

وزیر خزانہ آج پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرینگے

لاہور(این این آئی)صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت آج ( بدھ) صبح ساڑھے 11بجے 90شاہراہ قائد اعظم لاہور میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کریں گے۔ صوبائی وزراء اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز بھی ان کے ہمراہ ہوں

ایک سال کے دوران 238 ارب سے زائد بجلی کے یونٹ چوری

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت پانی و بجلی کے پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران 238 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ یونٹس کی بجلی چوری اور لائن لاسز ہو رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے پاور ڈویژن نے ایک سال میں بجلی چوری اور لائن لاسز سے متعلق اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 238 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ یونٹس کی بجلی چوری اور لائن لاسز ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سےزیادہ بجلی چوری اور لائن لاسز پیسکو میں 36.4 فیصد، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی 34.8 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ حیدر آباد الیکٹرک پاور کمپنی 27.2 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ پیسکو کے 5 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ یونٹ چوری اور لائن لاسز، سیپکو کے ایک ارب 58 کروڑ 20 لاکھ یونٹس کے لاسز اور چوری جبکہ حیسکو کے ایک ارب 50 کروڑ 30 لاکھ یونٹس کی چوری اور لائن لاسز ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیسکو میں ارب 30 کروڑ 10 لاکھ یونٹس کی چوری اور لائن لاسز ہورہے ہیں۔ سب سے کم بجلی چوری اور لائن لاسز دارالحکومت اسلام آباد پاور کمپنی میں رپورٹ ہوئے۔ آئیسکو کے لائن لاسز 7.4 فیصد رہے۔ آئیسکو میں 85 کروڑ 10 لاکھ یونٹس کی چوری اور لائن لاسز ریکارڈ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق کم بجلی چوری اور لائن لاسز میں فیسکو دوسرے نمبر پر رہا جہاں بجلی چوری اور لائن لاسز کی شرح 8.7 فیصد رہی۔ فیسکو میں ایک ارب 23 کروڑ 60 لاکھ یونٹس کی بجلی چوری اور لائن لاسز جبکہ گیپکو تیسرے اور لیسکو چوتھے نمبر پر رہی۔

ماہانہ 8 لاکھ موبائل فون درآمد نہیں ہونگے

کراچی(این این آئی)حکومت کی جانب سے کٹ موبائل کے کاروبار پر پابندی کے بعد ماہانہ آٹھ لاکھ موبائل فون درآمد نہیں ہوسکیں گے۔تاجروں کے مطابق کٹ موبائل پر ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن زیادہ ٹیکس لگنے کی وجہ سے غیرقانونی کاروبار پنپتا ہے۔موبائل کٹ کے کاروبار پر پابندی کے بعد سالانہ 33 سے 35ارب روپے کے کٹ موبائل کی درآمد رک جائے گی۔پاکستان میں ماہانہ آٹھ لاکھ موبائل فون درآمدہوتے ہیں۔استعمال شدہ موبائل کٹ کی مارکیٹ 35 فیصد ہے۔پاکستان میں 14 کروڑ موبائل سمزرجسٹرڈ ہیں۔ پاکستان میں سالانہ ایک کروڑ موبائل فون درآمد کئے جاتے ہیں ۔ان موبائل فون میں کٹ موبائل کا حصہ 35 فیصد تک ہے۔کراچی الیکٹرانک مارکیٹ ڈیلرزکے صدرمحمد رضوان نے بتایاکہ کٹ موبائل پر ٹیکس دینے کوتیار ہیں لیکن زیادہ ٹیکس کی وجہ سے غیرقانونی کاروبار پنپتا ہے۔موبائل کا کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہناتھا کہ استعمال شدہ کٹ موبائل کٹ سستا ہونے کی وجہ سے بڑی کھپت ہے ۔موبائل درآمد کرنے والوں نے کہا کہ سالانہ 33 سے 35 ارب روپے مالیت کے موبائل کٹ درآمد کئے جاتے ہیں ۔ حکومت ان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے اقدامات کرے ۔

ایل پی جی کی درآمد پر آر ڈی ختم، مقامی انڈسٹری کو دھچکا

کراچی(این این آئی)ملک میں ایران سے درآمد ہونے والی ایل پی جی کی قیمت کو سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس سے منسلک کرکے مقامی ایل پی جی کی فی ٹن قیمت کو درآمدی ایل پی جی سے 6تا 13 ہزار روپے سستا کردیا گیا ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والی ایل پی جی کی ملکی کھپت70 فیصد جبکہ درآمدی ایل پی جی کی کھپت بمشکل30 فیصد ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود پالیسی سازوں نے فی ٹن ایل پی جی درآمد پر عائد 4 ہزار 559 روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی لیکن مقامی طور پر پیدا ہونے والی فی ٹن ایل پی جی پر 4 ہزار 559 روپے کی لیوی برقرار رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے ایل پی جی دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریب صارفین کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔اس ضمن میں پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے بتایاکہ ملک میں ایل پی جی کی فی ٹن پیداواری قیمت 81 ہزار 442 روپے ہے جسے مارکیٹنگ کمپنیوں کو بشمول ٹیکسوں کے 1 لاکھ 2 ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹری بیوٹرز کے توسط سے عام صارفین کو 1 لاکھ 48 ہزار 890 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اس طرح سے ایل پی جی کے سستے متبادل ایندھن کے تصورکو ختم کردیا گیا ہے۔علی حیدر نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ اوسطا درآمدات 3 لاکھ 95 ہزار ٹن ہے جو 100 فیصد ایران سے بذریعہ سڑک اورسمندری راستے برآمد ہورہی ہیں۔ ایران سے درآمد ہونے والی ایل پی جی کا معیار پاکستان کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا جو بذریعہ سڑک مقامی ایل پی جی سے 13 ہزار روپے اور سمندری راستے سے آنے والی ایرانی ایل پی جی مقامی ایل پی جی 6 ہزار روپے سستی پڑتی ہے۔انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت حیرت انگیز طور پر مقامی انڈسٹری کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے 30 فیصد استعمال ہونے والی درآمدی ایل پی جی کو سستا جبکہ70 فیصد استعمال ہونے والی مقامی ایل پی جی کو مہنگا کرچکی ہے۔مقامی انڈسٹری سے لیوی کی مد میں 4 ارب روپے، جی ایس ٹی کی مد میں 9 ارب روپے اور ایڈیشنل جی ایس ٹی کی مد میں ڈھائی ارب روپے کی سالانہ وصولیاں کی جارہی ہیں۔درآمدی ایل پی جی کو مقامی ایل پی جی پر فوقیت دے کر حکومت نے پوری انڈسٹری کوچند امپورٹرز کے بھینٹ چڑھادیا ہے لیکن حکومت کے ان اقدام سے عام طبقہ متاثر ہورہا ہے جو قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملک میں فی ٹن ایل پی جی کی پیداواری لاگت 25 تا30 ہزارروپے ہے جسے 6گنا اضافے کے ساتھ غریب صارفین کو فروخت کیا جارہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نئے پاکستان کے سلوگن کو عملی شکل دینے کے لیے مقامی طورپیدا ہونے والی ایل پی جی پر لیوی ختم کرے اور جی ایس ٹی کی شرح کو گھٹاکر10 فیصد کرے جبکہ ایل پی جی کی قیمت کو سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس سے منسلک نہ کرے تاکہ مقامی انڈسٹری کو فروغ اور غریب صارفین کو ریلیف مل سکے۔

پاکستانی معیشت میں چین کی شمولیت خطرناک ہے : آئی ایم ایف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبر دار کیا ہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری یا اس کی معیشت میں چین کی شمولیت سے اسلام آباد کو فائدہ اور نقصان دونوں ہی ہوسکتے ہیں۔   رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سالانہ نیوز کانرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ماہر معاشیات مورس اوبسٹ فیلڈ نے کہا ہے کہ پاکستان نےباقاعدہ طور پر مالی امداد کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ نہیں کیا ہے لیکن اگر بیل آؤٹ پیکیج پر بات ہوتی ہے تو اس کا مقصد پاکستان کو اپنی پوری صلاحیت پر پہنچا دے گا۔ مورس اوبسٹ فیلڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، کم ہوتے ذرمبادلہ کے ذخائر اور غیر لچکدار کرنسی کی وجہ سے اسے سرمایہ کاری کے بڑے خلا کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کے ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوجاتا ہے تو اس مقصد اصلاحات ہوگا جو پاکستان کو مخصوص تفصیلات فراہم کیے بغیر ہی اس کی ملکی صلاحیت کو بہت زیادہ وسیع کر دے گا۔  حکومت نے ساختی اصلاحات نافذ کرنے سے متعلق اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے جن سے پاکستان کی فنڈز کے ذریعے مالی مدد کی عادت ختم ہوجائے گی۔ چین کی پاکستان میں شرمایہ کاری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو انفرا اسٹرکچر کی ترقی کی زیادہ ضرورت ہے جس میں چین کی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ تاہم اپنے ان خیالات سے بر عکس ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کی شمولیت سے پاکستان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ماہر معاشیات کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ان منصوبوں کا ڈیزائن بہت مضبوط ہو جس میں ایسے قرضوں کو، جو ادا نہ کیے جاسکیں، نظر انداز کیا جانا چاہیے۔حال ہی میں وزیرِ خزانہ اسد عمر کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت بالی میں کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہنگامی مالی امداد کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے سادگی کو نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام کے بجائے اس کے متبادل کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ پیر کی رات وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ اقتصادی ماہرین سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ماہر معاشیات خبردار کر رہے تھے کہ موجودہ خراب صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بحران کے پیش نظر ملکی روپے کی قدر میں کمی واقع ہو گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک پر چڑھے کھربوں روپے کے قرض کی ادائیگی اور درآمدات کی خریداری کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہو بلکہ 1980 کی دہائی سے اب تک متعدد حکومتیں قرض کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کر چکی ہیں۔