سعودی عرب،شہزادہ ولید بن طلال سمیت سات افراد کو رہا کر نے کا فیصلہ

ریاض : سعودی عرب کی حکومت نے حالیہ دنوں میں کرپشن کے الزام میں گرفتار شہزادہ ولید بن طلال سمیت مزید سات گرفتار لوگوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابقسعودی حکومت نے کرپشن کے الزام میں گرفتار ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سمیت 7 اعلیٰ عہدیداروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سعودی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال سمیت جن 7 افراد کوعدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا جارہا ہے۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ کرپشن سمیت دیگر معاملات میں گرفتار 208 ملزمان میں 7 کو ان الزامات میں عدم ثبوت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رہائی پانے والوں میں سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، شہزادہ ترکی بن ناصر، شہزادہ فہد بن عبداللہ، شاہی محل کے نگراں خالد التویجری، سابق وزیر متعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی بھی شامل ہیں۔ سعودی پراسیکیوٹر جنرل سعود المعجب کے مطابق مذکورہ ملزمان پر ایک کھرب ڈالر خرد برد کا الزام تھا، لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ان 7 ملزمان کو رہا کیا جارہا ہے۔