اشتہارات

سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف کریک ڈاؤن ختم، اشرافیہ سے 106 بلین ڈالر کی ریکوری

site_admin

ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور کرپشن کے خلاف شروع کی گئی مہم ختم کردی گئی جب کہ کریک ڈاؤن کے دوران اشرافیہ سے 106 بلین ڈالر سے زائد کی رقم وصول کی گئی۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نومبر 2017 میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جس کے دوران کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال سمیت کئی شہزادوں، وزرا اور نامور شخصیات کو حراست میں لیا گیا اور ان سے ڈیل کے بعد 106 بلین ڈالر سے زائد کی رقم وصول کی گئی۔

سعودی عرب کی شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کرپشن کے خلاف مہم کے دوران حکام نے 381 افراد کو طلب کیا جس میں سے 87 نے الزامات تسلیم کیے اور ایک معاہدے کے بعد معاملات طے پائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیل کے نتیجے میں ملزمان کی جائیداد، کمپنیوں اور نقد رقوم سمیت دیگر اثاثے ضبط کیے گئے۔

شاہی عدالت کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے 56 افراد پر فوجداری مقدمات ہونے کے باعث ڈیل کرنے سے انکار کردیا جب کہ 8 ملزمان نے کرپشن کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے مقدمات کا سامنا کرنے پر رضا مندی ظاہر کی۔

شاہی عدالت کے نئے فرمان کے بعد وہ افراد جنہیں حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی، انہیں آزاد کردیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اُن پر عائد سفری پابندی، منجمد اکاؤنٹس کی بحالی کے علاوہ الیکٹرانک مانیٹرنگ اٹھائی گئی یا نہیں۔

تاجر برادری میں پائی جانے والی گرفتاریوں کی تشویش کے باوجود کرپشن کے خلاف مہم جس طرح اچانک شروع ہوئی اسی طرح ختم بھی کردی گئی۔

کرپشن کے خلاف مہم کے ابتدائی تین ماہ کے دوران حراست میں لیے گئے سیاسی و تاجر اشرافیہ کو پہلے ریاض کے ریش کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا جس کے بعد چند کو بعدازاں جیل منتقل کیا گیا۔

بعض ناقدین اسے شہزادہ محمد بن سلمان کی طاقت کا کھیل قرار دیتے ہیں تاہم شہزادہ محمد بن سلمان کرپشن کے خلاف مہم کو شاک تھراپی قرار دیتے آئیں گے اور اسے معاشی اصلاحات و ملکی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی فرماںروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزراء سمیت کئی شہزادوں کو اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتار کیا، جس کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔

گرفتار کیے جانے والے افراد میں کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال، بن لادن گروپ کے چیئرمین بکر بن لادن، سرمایہ کار محمد العمودی، این بی سی گروپ کے مالک الولید البراہیم، ریاض کے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ بھی شامل تھے۔

گرفتار افراد میں سابق نائب وزیر دفاع شہزادہ فہد بن عبداللہ، سابق سربراہ محکمہ موسمیات شہزادہ ترکی بن ناصر اور شہزادہ مطعب بن عبداللہ، سابق گورنر ساجیا عمرو الدباغ، سابق وزیر اقتصادی منصوبہ بندی عادل فقیہ، سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، سابق سربراہ ایوان شاہی، خالد التویجری اور محمد الطبیشی اور بحریہ کے سابق ڈائریکٹر خالد الملحم شامل تھے۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات