اشتہارات

تیسرا ٹیسٹ: شاہین آج شکست کو بھلا کر پروٹیز کیخلاف میدان میں اتریں گے

site_admin

پاکستان کرکٹ ٹیم کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں مسلسل دوسرے وائٹ واش کا سامنا ہے۔ نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہوم ٹیسٹ سیریز دو ایک سے ہارنے والی پاکستانی ٹیم کو گذشتہ پانچ میں سے چار ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی ہے۔

جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ آج پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔

میزبان ٹیم کو سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ جنوبی افریقا کے کوچ اوٹس گبسن کا کہنا ہے کہ عالمی نمبر ایک ٹیم بننا ہمارا مشن ہے۔ جنوبی افریقا نے 2013 میں بھی پاکستان کے خلاف تینوں ٹیسٹ جیتے تھے۔

وانڈررز کی پچ بھی فاسٹ بولنگ کیلئے ساز گار ہے۔ 2013 میں اسی گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم ڈیل اسٹین کی تباہ کن بولنگ کے سامنے صرف 49 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا سب سے کم اسکور ہے۔ اسٹین نے 8رنز دے کر 6 وکٹ حاصل کئے تھے۔

اس میچ میں اسد شفیق، اظہر علی اور سرفراز احمد نے بھی شرکت کی تھی۔ توقع ہے کہ جنوبی افریقا میچ میں زبیر حمزہ کو ٹیسٹ کیپ دے گا۔ جنوبی افریقا نے کپتان فاف ڈیو پلیسی کی معطلی کےسبب پاکستان کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے اوپننگ بیٹسمین ڈین ایلگر کو قائم مقام کپتان مقرر کردیا ہے۔

ڈیوپلیسی کو سلو اوور ریٹ کے سبب ایک میچ کی معطلی کا سامنا ہے جس کے باعث وہ پاکستان کے خلاف آخری ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے۔

ڈین ایلگر 2017 میں لارڈز کے تاریخی میدان میں انگلینڈ کے خلاف بھی جنوبی افریقی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں۔ جنوبی افریقی سلیکٹرز نے اوپنر ایڈن مرکرم کی انجری کے پیش نظر نو وارد بلے باز پیٹر ملان کو اسٹینڈ بائی کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔

مرکرم کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران ران کی انجری کا شکار ہوئے تھے اور تیسرے ٹیسٹ میں شرکت کے لیے انہیں فٹنس ٹیسٹ کلیئر کرنا ہو گا۔

پاکستانی ٹیم نے آج تک وانڈررز میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے۔ 1998 میں چوتھا دن بارش کی نذر ہونے سے پاکستان نے یہاں ایک ٹیسٹ ڈرا کیا تھا۔ پاکستانی بیٹنگ جنوبی افریقا کے پیس اٹیک کے خلاف مشکلا ت سے دوچار رہی ہے۔

اوپنر شان مسعود سیریز میں47 کی اوسط سے 189 رنز بناکر نمایاں ہیں۔ فیلنڈر نے گذشتہ سال اس گراؤنڈ پر 21 رنز دے کر آسٹریلیا کے 6 بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا تھا۔ جنوبی افریقا نے اس میدان پر گزشتہ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا اور 492 رنز کے بھاری مارجن سے فتح حاصل کی تھی۔

جنوبی افریقا کے ہیڈ کوچ اوٹس گبسن کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف تینوں ٹیسٹ میچوں کے علاوہ سری لنکا کے خلاف بھی دونوں میچ جیتنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم 4 فاسٹ بولر اور ایک اسپنر کے ساتھ حملہ آور ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ ابتدائی دونوں ٹیسٹ ہارنے کے بعد وائٹ واش سے بچنے کیلئے پاکستانی ٹیم پانچ بولروں کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ٹیم انتظامیہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے طویل عرصے بعد پانچ بولروں اور چھ اسپیشلسٹ بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔

پاکستان کا 4 فاسٹ بولروں کا اسکواڈ محمد عامر، محمد عباس،فہیم اشرف اور حسن علی پر مشتمل ہوگا۔ پاکستانی ٹیم میں 4 فاسٹ بولر اور ایک اسپنر شاداب خان ہوں گے جب کہ طویل قامت فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ میچ میں شرکت نہیں کریں گے اور فہیم اشرف کو ان کی جگہ موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز امام الحق کے ساتھ شان مسعود کریں گے جب کہ مڈل آرڈر بیٹنگ میں اظہر علی، اسد شفیق، بابر اعظم اور سرفراز احمد ہوں گے۔

سندرم روی اور جو ولسن امپائر جبکہ بروس آکسن فورڈ ٹی وی امپائر اور ڈیوڈ بون میچ ریفری ہوں گے۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات