اشتہارات

ٹرمپ اور کانگریس اراکین کے درمیان شٹ ڈاؤن کے خاتمے کیلئے مذاکرات بے نتیجہ ختم

site_admin

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عارضی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مذاکرات سے اٹھ کر چلے گئے اور اسے وقت کا ضیاع قرار دے دیا۔

میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے 5 بلین ڈالرز کے فنڈز کے تقاضے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن اراکین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی۔

امریکا میں جزوی شٹ ڈاؤن کے باعث 9 مختلف محکموں کے 8 لاکھ وفاقی ورکرز اور متعدد ایجنسیوں کے ورکرز کام نہیں کر رہے، شٹ ڈاؤن کے باعث امیگریشن نظام بری طرح متاثر ہے اور عدالتی نظام بھی شدید بحرانی صورتحال کا شکار ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اراکین نینسی پیلوسی اور چک شومر کے درمیان ہونی والی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا احوال بتاتے ہوئے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا جس میں بتایا کہ وہ نینسی اور چک شومر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات چھوڑ کر آگئے جو صرف وقت کا ضیاع تھا۔

Donald J. Trump

@realDonaldTrump

Just left a meeting with Chuck and Nancy, a total waste of time. I asked what is going to happen in 30 days if I quickly open things up, are you going to approve Border Security which includes a Wall or Steel Barrier? Nancy said, NO. I said bye-bye, nothing else works!

164K people are talking about this

امریکی صدر نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا اگر یہی صورتحال رہی تو 30 دن میں کیا ہوگا، اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے دیوار یا خاردار تار کی وہ منظوری دے رہے ہیں یا نہیں؟۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ان کے سوال پر مذاکرات میں شریک نینسی نے کہا ‘نہیں’ جس پر وہ ‘بائے بائے’ کہہ کر واپس آگئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے قوم سے خطاب کے دوران میکیسکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ میکسیکو کی سرحد پر انسانی بحران جنم لے رہا ہے جو دل اور روح کا بحران ہے۔

اوول آفس میں تقریر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیوار کی تعمیر صحیح اور غلط، انصاف اور ناانصافی کے درمیان فرق کا انتخاب ہے، ڈیموکریٹس وائٹ ہاؤس دوبارہ آئیں اور مذاکرات کریں۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات