اشتہارات

اعظم سواتی کے بطور وفاقی وزیر استعفے کی منظوری کا ایک ماہ بعد نوٹی فکیشن جاری

site_admin

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹر اعظم سواتی کا بطور وفاقی وزیر استعفیٰ منظور کرلیا۔

کابینہ ڈویژن نے اعظم سواتی کے استعفے کی منظوری کا نوٹی فکیش جاری کردیا جس کے مطابق صدر نے وزیراعظم کی سفارش پر استعفیٰ منظور کیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق اعظم سواتی کے استعفے کی منظوری کا اطلاق 6 دسمبر 2018 سے ہوگا۔

سابق وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی کے استعفے کی منظوری کا نوٹی فکیشن ان کے مستعفی ہونے کے اعلان کے ایک ماہ 3 روز بعد جاری کیا گیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں نامزد اعظم سواتی نے سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی بنائے جانے کے بعد 6 دسمبر 2018 کو وفاقی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا تاہم اس کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اعظم سواتی کے استعفے کے ایک ماہ بعد بھی وفاقی کابینہ کی فہرست میں ان کا نام بطور وفاقی وزیر درج تھا جس پر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر بحث آیا۔

سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا بھی حکم دے رکھا ہے۔

اعظم سواتی کیس کا پسِ منظر

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال (مس کنڈکٹ) کے معاملے کی تحقیقات کے تانے بانے اُن کے صاحبزادے کی جانب سے ان کے فارم ہاؤس کے قریب رہائش پذیر ایک غریب خاندان کے خلاف مقدمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے ملتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس معاملے پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو کئی مرتبہ فون کرنے کا اعتراف کیا، یہ جھگڑا ابھی درمیان میں ہی تھا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جس پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا۔

اعظم سواتی کے مس کنڈکٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس نے وفاقی وزیر کے پڑوسیوں ساتھ تنازع میں بطور وزیر ان کے مس کنڈکٹ کا تعین کرنا تھا۔

عدالت نے جے آئی ٹی کو 14 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اعظم سواتی اور ان کے بچوں کے اثاثے اور ٹیکس معاملات دیکھنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

جے آئی ٹی نے اعظم سواتی کے علاوہ وزیر مملکت داخلہ کو بھی شامل تفتیش کیا اور 17 نومبر کو ایک سربمہر عبوری رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی۔

بعدازاں 19 نومبر کو حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی، جس میں اعظم سواتی اور ان کے ملازمین کو فارم ہاؤس پر جھگڑے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ واقعے کے اگلے دن ہی وزیر مملکت برائے داخلہ اور ایس ایس پی آپریشنز اعظم سواتی کے گھر گئے، پولیس اعظم سواتی کے خاندان کے ساتھ مل گئی اور اس واقعے کی ایماندارانہ تفتیش نہیں کی جبکہ پولیس افسران نے جان بوجھ کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق 30 اکتوبر کو فارم ہاؤس تنازع کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے نیاز علی کی ضمانت ہوگئی اور اعظم سواتی کے بیٹے نے کہا کہ انہیں ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں جس کے بعد معاملہ راضی نامے سے حل کر لیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نیاز علی نے بتایا کہ اس کے گھر جرگہ آیا تھا، بطور پختون وہ جرگے کو انکار نہیں کرسکا اور ملزمان کو معاف کردیا۔

رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کی اہلیہ نیاز علی کے گھر اس کے بچوں کے لیے کپڑے لے کر آئیں، نیاز علی کے خاندان کو رقم کی پیش کش بھی کی گئی جو اس نے ٹھکرا دی اور یہ سب سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیاز علی خاندان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا جب کہ بطور وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی سے خصوصی طور پر نرم رویہ اختیار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مقدمے کی تفتیش پولیس کے جونیئر افسران نے کی، پولیس افسران نے جے آئی ٹی کو بتایا یہ عام نوعیت کا کیس تھا اس لیے سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

جےآئی ٹی کی 5 جِلدوں پر مشمل رپورٹ میں کہا گیا کہ سواتی خاندان کا مؤقف جھوٹ پر مبنی،بے بنیاد اور تضادات سے بھرپور ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ اعظم سواتی کے خلاف عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی کرے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات