اشتہارات

تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

site_admin

اسلام آباد:  سندھ حکومت نے تھر میں غذائی قلت سے چار سو بچوں کی ہلاکت کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کر وا دی ہے۔

عدالتی معاون فیصل صدیق نے کہا کہ کئی رپورٹیں پیش کی گئیں، عمل ایک پر بھی نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سب اچھا ہے، کاغذی کام پورا کر دیا گیا، چارسال سے تھر کے ہسپتالوں میں 70 آسامیاں خالی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تھر میں حاملہ خواتین اور بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، 513 متاثرہ علاقوں میں تین ماہ تک 50 کلو گندم فی گھر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تھر میں 14 اکتوبر سے 2 نومبر تک 42 ہزار مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا جبکہ تھر فاؤنڈیشن کے منافع کا دو فیصد مقامی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ پسماندہ علاقے میں ڈاکٹر جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کیا تھر میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو اڑھائی لاکھ سے زائد کی پیشکش اور رقم مختص کی گئی؟ آپ نے کتنے ڈاکٹر بھیجے اور کتنے ہیں جنھوں نے انکار کیا؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ تین دن میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی فہرست دیں گے۔ عدالتی معاون نے بتایا کہ تھر میں بڑا مسئلہ زرعی قرضوں کی واپسی ہے، قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات