اشتہارات

بھارت کو ایک اور بڑا جھٹکا،چین نے مولانا مسعود اظہر کے بارے میں بڑا اعلان کردیا

site_admin

بیجنگ(آئی این پی)چین نے مولانامسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے بھارتی مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین بلا شبہ انسداد دہشت گردی پر سخت موقف رکھتا ہے،مسعود اظہر کودہشتگرد قرار دینے کے حواکے سے چین اپنے موقف پر پوری طرح قائم ہے، چین بھارت کے ساتھ انسداد دہشتگردی پر تعاون کے لئے تیار ہے، بھارت اور چین مابین سیکیورٹی تعلقات کو بڑھایا جائیگا، مستقبل میں بین الاقوامی جرائم، جعلی کرنسی کے جرائم، ٹیلی کام دھوکہ دہی اور منشیات کے جرائم پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہووا چھن اینگ نے گذشتہ روز اپنی معمول کی پریس بریفنگ میں دہلی میں چینی اسٹیٹ قنصلر اور عوامی تحفظ کے وزیر زوہاؤ کزہائی اور بھارتی وزیر داخلہ مابین ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے پر مدد کرنے کا کہا جس کو چین نے سختی سے مسترد کر دیا۔ چین کا موقف ہے کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے مسعود اظہر کودہشتگرد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارت واضح ثبوت پیش کرے۔ واضح رہے کہ چین اس معاملہ پر پہلے بھی بھارت کو کئی بار انکار کر چکا ہے اور سلامتی کونسل میں بھارت کے اس ایشو کو ویٹو کر چکا ہے۔ چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ چین دہشت گردی بارے سخت موقف رکھتا ہے اور انسداد دہشت گردی کا سرگرم ترین رکن ہے۔ چین سختی سے اپنے موقف پر قائم ہے۔ ہووا چھن اینگ نے مزید کہا کہ چین اور بھارت مابین تعلقات میں گرمجوشی آ رہی ہے۔ چین بھارت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہر طرح تعاون کو تیار ہے چونکہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، بھارت اور چین مابین سیکیورٹی تعلقات کو بڑھایا جائیگا۔ مستقبل میں بین الاقوامی جرائم، جعلی کرنسی کے جرائم، ٹیلی کام دھوکہ دہی اور منشیات کے جرائم پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔ بھارت اور چین مابین اس ملاقات کے دوران مختلف معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ چین اور بھارت مابین یہ معاہدہ بھارت چین کے تعلقات میں بڑھوتری کے لئے بہتر ہے۔ معاہدے کی بدولت چین بھارت مابین ہم آہنگی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت باہمی تعلقات کو وسعت دینا ناگزیر ہے۔بھارت نے چین سے درخواست کی ہے کہ چین علیحدگی پسند تنظیم آسام یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کے نمائندوں اور لوگوں کو پناہ نہ دے جس پر چینی ترجمان کا جواب تھا کہ چین کبھی بھی کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسی نہیں رکھتا۔ چین کے اس موقف میں نہ کوئی تبدیل آئی ہے نہ آئے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات