اشتہارات

الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ,قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی سب سے آگے

site_admin

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے ساتھ پارٹی پوزیشن جاری کر دی ،جس کے تحت تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے آگے نکل گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں بھی الاٹ، تحریک انصاف 33 سیٹوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ ن لیگ کے حصے میں 18 نشستیں آئیں، پیپلزپارٹی کے بھی 11 ارکان بڑھ گئے۔ ایوان زیریں میں حتمی پارٹی پوزیشن بھی جاری کر دی گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستوں میں سے تحریک انصاف کو 28، مسلم لیگ ن کو 16 اور پیپلزپارٹی کو 9 نشستیں ملیں۔ ایم ایم اے کو 2 جبکہ ق لیگ، جی ڈی اے، ایم کیو ایم، بی این پی مینگل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو خواتین کی ایک ایک مخصوص نشست الاٹ کی گئی۔

قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی 10 مخصوص نشستوں کا بھی فیصلہ کردیا گیا، جس کے مطابق تحریک انصاف کو 5، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو 2،2 جبکہ ایم ایم اے کو ایک اقلیتی نشست ملی۔ قومی اسمبلی کے 9 آزاد ارکان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی جبکہ 4 نے آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی اسمبلیوں میں پوزیشن: 

پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ 23 آزاد امیدواروں نے شمولیت کی جس کے بعد 142 اراکین کے کوٹے میں خواتین کی 33 اور اقلیتوں کے لیےمخصوص نشستوں میں سے 4 ملی ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 179 ہو گئی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایک آزاد امیدوار شامل ہوا جس کے بعد 130 نشستوں پر خواتین کی 30 اور 4 اقلیتی نشستیں الاٹ کی گئیں اور یوں مجموعی تعداد 164 ہوگئی ہے۔اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ق) کو خواتین کی 2 اور پی پی پی کو ایک نشست ملی اور اسمبلی میں ان کی مجموعی تعداد بالترتیب 10 اور 7 ہوگئی ہے۔

ای سی پی کے اعلامیے کے مطابق سندھ میں پی پی پی کو خواتین کی 17 اور اقلیتی 5 نشستیں حاصل ہوئیں جس کے بعد مجموعی تعداد 97 ہوئی۔پی ٹی آئی کو 5 خواتین اور 2 اقلیتی نشستیں، ایم کیو ایم کو خواتین کی 4 اور ایک اقلیتی نشست ملی جس کے بعد مجموعی طور پر بالترتیب 30 اور 21 نشستیں حاصل ہوئیں۔سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کو 2 خواتین اور ایک اقلیتی نشست حاصل ہوئی جبکہ تحریک لبیک پاکستان کو ایک خاتون کی نشست دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اکثریتی جماعت ہے، تحریک انصاف 84 سیٹوں کےساتھ پہلے نمبر پرموجود  ہے ۔ ایم ایم اے کی 13 ،اے این پی کی 9 ،اور ن لیگ کی 6 نشستیں ہو گئیں۔

ادھر بلوچتان میں خواتین کی چار اور اقلیتوں ایک نشست ملنے سےبی اے پی کے ہاتھ میں 20نشستیں آگئیں. ایم ایم اے کے اراکین کی تعداد 11،بی این پی مینگل کی 10،اورتحریک انصاف کے اراکین کی تعداد سات ہو گئی ۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات