اشتہارات

کیا ہاتھی بارودی سرنگیں سونگھ سکتے ہیں؟

site_admin

انگولا     :-     افریقی ملک انگولا 27 برس خانہ جنگی کی زد میں رہا۔ پانچ لاکھ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور جنگلی حیات پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے۔ گینڈوں اورہاتھیوں کو بہت زیادہ نشانہ بنایا گیا اور اس کے سینگوں اور دانتوں کو بیچ کر باغیوں نے ہتھیار حاصل کیے۔ اس لڑائی کے دوران ہاتھیوں کی آبادی سرحد عبور کر کے بوٹسوانا، زمبیا اورجمہوریہ کانگو فرار ہو گئی۔ جب 2002ء میں جنگ ختم ہوئی جانور دھیرے دھیرے ان میدانوں کی طرف لوٹنا شروع ہوئے جہاں کبھی وہ خوراک حاصل کرتے تھے۔ لیکن ایک مسئلہ قائم رہا۔ انگولا میں اس دوران جگہ جگہ بچھائی گئی لاکھوں بارودی سرنگیں اسی طرح موجود رہیں۔ واپس آنے والے بہت سے ہاتھی ان کا نشانہ بنے اور ہلاک و زخمی ہوئے۔
ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت کرنے والے ہاتھیوں کے جھنڈ بارودی سرنگوں سے بچتے چلے جارہے تھے۔ اس سے اس امکان کا اظہار ہوتا ہے کہ واپس آنے والے کم از کم کچھ ہاتھی ایسے ہیں جنہیں بارودی سرنگوں سے خطرے کا احساس ہے۔ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟کیا بارودی سرنگوں سے بچنے والے ہاتھیوں نے دوسرے ہاتھیوں کو ان علاقوں میں مرتے دیکھا؟ یا انہوں نے بارودی سرنگوں کی بو سے اس خطرے کو پہچانا؟ اس مقصد کے لیے ایک تحقیق کا آغاز کیا گیا۔ جس میں یہ پتا چلانے کی کوشش کی گئی کہ کیا ہاتھی بارودی سرنگوں میں استعمال ہونے والے بنیادی عنصر ٹی این ٹی (Trinitrotoluene) کو سونگھ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اسے سونگھنا آسان نہیں لیکن کچھ جانور اس کی بو خوب اچھی طرح سونگھ لیتے ہیں۔ ان میں کتے اور افریقہ میں پائے جانے والے جسیم چوہے شامل ہیں۔
شہد کی مکھیوں کی یہ صلاحیت بھی اچھی ہے۔ جانداروں میں سونگھنے کی صلاحیت ان کی جینیاتی خصوصیات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ افریقہ میں پائے جانے والے ہاتھیوں کے سونگھنے سے تعلق رکھنے والے جینز کتوں کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ہاتھیوں کی زندگی میں اس سونگھنے کی صلاحیت کا اہم کردار ہے۔ تحقیق کا مقصد ہاتھیوں کی ٹی این ٹی سونگھنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ یہ جاننا تھا کہ ان کی اور کتوں کی اس صلاحیت میں کیا فرق ہے۔ اس مقصد کے لیے چند ہاتھوں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ پھر ان کی راہ میں مختلف کیمیکل رکھے گئے۔
انہوں نے چلتے ہوئے ٹی این ٹی کی موجودگی پر اپنی ٹانگ سے اشارہ کرنا تھا۔ محققین کو حیرت ہوئی کہ ہاتھیوں نے چھپی ہوئی ٹی این ٹی کو سونگھنے کی حس کی بنیاد پر پہچان لیا۔ تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں چند پہلوؤں کے اعتبار سے یہ صلاحیت کتوں سے بھی بہتر ہے جنہیں بارودی سرنگیں پہچاننے کے لیے عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان تجربات میں ہاتھی ٹی این ٹی کے 97 مقامات میں سے صرف ایک کی نشان دہی نہ کر سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی کامیابی کا سکور 99 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ کتوں میں یہ 94 فیصد کے قریب ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ کتوں کی جگہ ہاتھوں کو بارودی سرنگیں پہچاننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی زندگیاں پہلے ہی مشکل میں ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات