اشتہارات

پی ایس ایل ایونٹ کو بدعنوانی سے بچانے کی کوشش

site_admin

نئی صلاحیت ابھارنے کیلئے مربوط پلاننگ کا فیصلہ ، نجم سیٹھی کی زیر صدارت اجلاس میں چھ ٹیموں کے مالکان کی شرکت ، فرنچائز کے نمائندوں کی مشاورت سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں بہتری پر غور

لاہور پاکستان سپر لیگ کو بدعنوانی سے بچانے کی کوششوں کے ساتھ ہی ایونٹ کے دوران نئی صلاحیت ابھارنے کیلئے مربوط پلاننگ کا فیصلہ کرلیا گیا ، نجم سیٹھی کی زیر صدارت اجلاس میں ایونٹ کی چھ ٹیموں کے مالکان نے شرکت کی اور فرنچائز کے نمائندوں کی مشاورت سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں بہتری پر غورکیا گیا ، ہر ٹیم 20 کے بجائے 21 پلیئرز پر مشتمل ہو گی ، کھلاڑیوں کے معاوضوں کے علاوہ خریداری کیلئے مختص رقم میں اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ۔ اینٹی کرپشن کی کوششوں میں مزید سختی کی ہدایت کے ساتھ یہ بات بھی سامنے لائی گئی کہ ایونٹ کا تیسرا ایڈیشن 22 فروری کو پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز معرکے سے شروع ہو گا ۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزوں کا ایک خصوصی اجلاس چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملتان سلطانز کے منیجنگ ڈائریکٹر اشر شون ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر ، پشاور زلمی کے اونر جاوید آفریدی،لاہور قلندرز کے سی ای او عاطف رانا ، کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے شریک مالک علی نقوی نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران متعدد اہم فیصلے کئے گئے جن میں سرفہرست ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کا انعقاد تھا جس کیلئے فرنچائز مالکان اور ان کے نمائندوں کی مشاورت سے ایک مربوط منصوبہ بندی تیار کی گئی تاکہ نئی صلاحیت کو سامنے لانے کیلئے کاوشوں میں بہتری لائی جائے ۔
مرچنڈائزنگ کے معاملات کیلئے قانونی پیمانوں کے ساتھ ہی تمام فرنچائز مالکان نے متفقہ طور پر اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ پلیئرز سیلری کیپ میں پچیس ہزار ڈالرز کا اضافہ کیا جائے تاکہ ٹیمیں رواں سال بیس کے بجائے اپنے سکواڈز کو اکیس کھلاڑیوں تک وسعت دے سکیں ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ہر ٹیم کو کھلاڑیوں کی خریداری کیلئے ایک اعشاریہ دو ملین ڈالرز خرچ کرنے کی اجازت تھی جس میں اضافہ ہونے کے بعد کم از کم سولہ رکنی سکواڈ کے ساتھ پانچ سپلیمنٹری پلیئرز بھی رکھے جا سکیں گے ۔ ہر فرنچائز میں شامل کیا جانے والا ایک اضافی کھلاڑی پاکستان سے ہوگا جس کا انتخاب ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز اور ڈومیسٹک کرکٹ کے علاوہ راولپنڈی میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ سے کیا جا سکے گا ۔
واضح رہے کہ ایونٹ کے دوران کوئی بھی کھلاڑی ایک لاکھ چالیس ہزار سے لے کر دو لاکھ تیس ہزار ڈالرز تک کمانے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ ڈائمنڈ کیٹگری کے پلیئرز کو اب 70 سے 85 ہزار ڈالرز ، گولڈ کیٹگری کے پلیئرز کو 60 ہزار ڈالرز ، سلور کیٹگری کے پلیئرز کو 22 سے 33 ہزار ڈالرز جبکہ انڈر 19 کھلاڑیوں سمیت ایمرجنگ پلیئرز کو دس سے بارہ ہزار ڈالرز کی رقم گھر لے جانے کا موقع مل جائے گا ۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران اینٹی کرپشن معاملات کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور کوشش یہی ہوگی کہ انسداد بدعنوانی کیلئے پیمانوں میں مزید سختی برتی جائے تاکہ ان ناخوشگوار واقعات کا خاتمہ ہو سکے جن کی وجہ سے ایونٹ کا دوسرا ایڈیشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایونٹ کے دوران کرفیو ٹائم کی منظوری کے ساتھ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس ایل تھری کے تمام آپریشنز کی نگرانی عثمان زاہد کریں گے ۔
ذرائع کے مطابق پلیئرز ڈرافٹ کے بعد فرنچائز کے نمائندوں کو پاکستان سپر لیگ تھری کا شیڈول بھی فراہم کردیا گیا جس کے مطابق ایونٹ کا 22 فروری کو پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز معرکے سے آغاز ہوگا اور دونوں سیمی فائنلز لاہور کے قذافی سٹیڈیم جبکہ فائنل 25 مارچ کو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا ۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شین واٹسن ، کرس لائن اور جنوبی افریقہ کے جین پال ڈومینی سمیت کئی انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے پاکستان میں ہونے والے میچز کیلئے اپنی دستیابی کا اعلان کردیا ہے ، جبکہ کچھ کھلاڑی بعد میں پاکستان جانے کی تصدیق کریں گے اور اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹرز پاکستان میں میچز سے انکار کریں گے ۔ یاد رہے کہ ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کو یقینی بنانے کی خاطر پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن دو ہفتے کی تاخیر سے شروع ہوگا کیونکہ رواں دونوں ممالک کے درمیان پاکستان میں کھیلی جانے والی تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز آئندہ سال مارچ تک موخر کی گئی ہے جس کے میچز لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں 29 اور 31 مارچ کے علاوہ یکم اپریل کو کھیلے جائیں گے ۔

دیگر متعلقہ خبریں

اشتہارات